بی آر ایس کے قیام کے ذریعہ سیاسی نہیں موت و زیست کی لڑائی، اب کی بار کسان سرکار، ناندیڑ میں بڑے جلسہ عام سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔/5 فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ملک میں تبدیلی کے مقصد سے ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کیا گیا ہے تاکہ نفرت کا خاتمہ ہو اور تمام طبقات کیلئے ترقی و بھلائی کو یقینی بنایا جائے۔ کے سی آر نے آج ناندیڑ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔بی آر ایس کے قیام کے بعد کسی دوسری ریاست میں یہ پہلا جلسہ عام ہے۔ کے سی آر نے اب کی بار کسان سرکار کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس برسراقتدار آنے پر اندرون دو سال جگمگاتا ہوا ہندوستان تشکیل پائے گا اور تلنگانہ کی طرح سارے ملک میں فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی جائے گی۔ کے سی آر نے کہا کہ بی آر ایس کی جدوجہد صرف سیاسی لڑائی نہیں بلکہ یہ زندگی اور موت کی لڑائی ہے۔ عوام کی تائید سے بقاء کی اس جنگ میں ہمیں کامیابی ملے گی۔ کے سی آر نے کہا کہ چھترپتی شیواجی، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور جیوتی با پھولے کی سرزمین مہاراشٹرا پر جلسہ عام کا انعقاد باعث مسرت ہے۔ ملک کو آزادی ملے 75 سال گذر گئے کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں، سیاستدانوں نے عوام سے کئی وعدے کئے لیکن عوام کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آج بھی ہندوستان کے کئی علاقے پانی اور برقی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مہاراشٹرا میں کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ زرعی شعبہ حکومت کی توجہ سے محروم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی آر ایس نے اب کی بار کسان سرکار کا نعرہ لگایا ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ انتخابات میں قائدین نہیں بلکہ عوام اور کسانوں کی جیت ہونی چاہیئے۔ ہندوستان غریب ملک باقی نہیں رہا بلکہ یہ امریکہ سے زیادہ دولت مند ہے۔ وسائل کی تقسیم سیاستدانوں کے بجائے عوام کے درمیان ہونی چاہیئے۔ کے سی آر نے کہا کہ آزادی کے بعد سے کانگریس نے 54 سال اور بی جے پی نے 16 سال تک حکومت کی ان دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے پر کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات عائد کئے۔ ایک دوسرے پر تنقید میں وقت گذاردیا گیا اور عوام کی بھلائی فراموش کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پتنگ، مانجہ حتیٰ کہ قومی ترنگا بھی چین سے حاصل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناندیڑ میں کتنے چینا بازار ہیں اس کا عوام خود جائزہ لیں۔ ہماری جدوجہد سیاسی نہیں بلکہ موت و زیست کی لڑائی ہے۔ کے سی آر نے الزام عائد کیا کہ ریاستوں کے درمیان آبی تنازعات کی یکسوئی میں مرکزی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ آٹھ سال قبل تلنگانہ میں کئی مسائل تھے لیکن آبپاشی، پانی اور برقی جیسے اہم شعبہ جات میں تلنگانہ نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ تلنگانہ میں مفت برقی کی سربراہی اور رعیتو بندھو اسکیم کے علاوہ 5 لاکھ روپئے انشورنس کا کے سی آر نے حوالہ دیا اور کہا کہ جب تلنگانہ میں یہ ممکن ہے تو پھر مہاراشٹرا میں کیوں نہیں۔ بی آر ایس کے برسراقتدار آنے پر ملک بھرمیں کسانوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کی جائے گی اور دلت بندھو اسکیم پر عمل کیا جائے گا۔ ناندیڑ ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع گرو گووند سنگھ گراؤنڈ میں جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مہاراشٹرا کے کئی قائدین نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ کے سی آر نے کہا کہ ہل چلانے والے کسانوں کے ہاتھ میں وہ اقتدار دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی بی آر ایس کے قیام کا فیصلہ لیا گیا کیونکہ آزادی کے 75 سال بعد بھی عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میک اِن انڈیا کا نعرہ ایک مذاق بن چکا ہے۔ کے سی آر نے بی جے پی اور کانگریس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ملک کی موجودہ ابتر صورتحال کیلئے ذمہ دار قرار دیا۔ کانگریس نے امبانی اور بی جے پی نے اڈانی کی سرپرستی کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی میک اِن انڈیا کے نام پر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ذخائر آب سے زیادہ آبی تنازعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ کسان اقتدار کی صورت میں بیڑ، لاتور اور پربھنی جیسے علاقوں کی ترقی ممکن ہوگی۔ کے سی آر نے کہا کہ ملک کی قیادت میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ قیادت صرف بیان بازی اور دعوؤں تک محدود ہے لہذا ملک میں نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ر