ملک میں ہندی کے بعد تلگو سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان

   

قومی سطح پر مقام حاصل کرنے پر زور، گورنرپیٹ تا گورنر ہاؤز کتاب کی رسم اجراء، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔3۔مارچ۔(سیاست نیوز) ملک میں ہندی کے بعد تلگو سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے اور قومی سطح پر سیاست میں بھی ہمیں وہ مقام حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے سابق آئی پی ایس وگورنر مسٹر پی ایس رام موہن راؤ کی کتاب ’گورنر پیٹ تا گورنر ہاؤز‘ کے رسم اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ قومی سیاست میں تلگو عوام نے جو خدمات انجام دی ہے ان میں بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر نے این ٹی راما راؤ‘ نیلم سنجیوا ریڈی اور نرسمہاراؤ کی قومی سیاست میں خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ڈاکٹر جئے پال ریڈی اور سابق نائب صدر جمہوریہ مسٹر وینکیا نائیڈونے قومی سیاست میں تلگو عوام کے کردار کا کسی حد تک حصہ کو برقرار رکھا لیکن اب قومی سیاست میں تلگو عوام کا حصہ بالکل نظر نہیں آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی سیاست میں تلگو عوام اور قائدین کے کردار کا نہ ہونا تلگوعوام کی ترقی اور بقاء کے لئے مناسب نہیں ہے اسی لئے ہمیں دو ریاستوں میں منقسم کئے جانے کے باوجود انسانی اور لسانی بنیادو ں پر متحد رہتے ہوئے اپنا اثر دکھانا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلگو ریاستوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیاستدانوں کو متحدہ طور پر اپنی شناخت اور کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئے ۔ انہوں نے اس تقریب میں موجود ریٹائرڈ عہدیدارو ںاور برسرخدمت عہدیداروں سے کہا کہ قابل عہدیدار سیاستدانوں کی رہبری کرسکتے ہیں۔ انہوں نے پی وی نرسمہا راؤکے نندیال سے لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلہ کے بعد آنجہانی این ٹی راما راؤ کی جانب سے تلگو دیشم پارٹی سے امیدوار نہ اتارنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ متحدہ طور پر نرسمہا راؤ کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے سیاسی میدان میں اچھی روایات پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان روایا ت کے احیاء کے سلسلہ میں اقدامات پر غور کرنا شروع کیا ہے تاکہ ماضی کے دور کا احیاء ہوسکے اور تلگو عوام کی قومی سیاست میں قدر و منزلت میں اضافہ کو یقینی بنایا جاسکے۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ سیاسی اور سرحدی طور پر علحدہ و مختلف ہونے کے باوجود ہم اس بات کی کوشش کر سکتے ہیں کہ انسانیت اور لسانیت کی بنیاد پر متحد رہتے ہوئے تلگو عوام کی ترقی کو یقینی بنائیں۔3