ملک میں 14 وزرائے اعظم تبدیل ہوئے مگر عوام کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں

   

جبکہ ملک میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے ، مہاراشٹرا کے کسان قائدین کی بی آر ایس میں شمولیت کے سی آر کا خطاب

حیدرآباد ۔ یکم ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ ملک میں کسانوں کی طاقت کو متحد کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ آزادی کے بعد 14 وزرائے اعظم تبدیل ہوئے ہیں مگر ملک کے عوام کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ مہاراشٹرا شٹکاری سنگھٹن کسان لیڈر شردجوشی پرنیت کے علاوہ دوسرے کسان قائدین نے آج حیدرآباد پہونچ کر تلنگانہ بھون میں بی آر ایس کے قومی سربراہ چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات کرتے ہوئے بی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ کے سی آر نے کہا کہ میں نے اپنے 50 سالہ سیاسی تجربہ میں بہت سارے اتار چڑھاؤ کا سامنا کیا ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد بڑے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کی ہے ۔ انہوں نے مہاراشٹرا کے کسان قائدین کو کالیشورم پراجکٹ کا دورہ کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی نے تین سیاہ قوانین نافذ کرتے ہوئے کسانوں کو پریشان کردیا ۔ ملک کے صدر مقام دہلی میں کسانوں نے 13 ماہ تک احتجاج کیا جس میں 750 کسانوں کی موت واقع ہوگئی۔ سیاہ قوانین کے خلاف تحریک چلانے والے کسانوں کو دہشت گرد ، خالصتانی اور علحدگی پسند قرار دیا گیا ۔ لیکن کسان اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے ڈٹے رہے جس کے بعد مودی نے کسانوں کی جدوجہد کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ۔ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کسانوں سے معذرت خواہی کی ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ ہمارے ملک میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ باوجود اس کے ملک کے عوام اور کسان شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے قبل کسان خود کشی کرتے تھے ۔ تلنگانہ ریاست بننے کے بعد زرعی شعبہ کے استحکام کے لیے بہت سارے کام کئے گئے ۔ جس کے بعد خود کشیوں کا سلسلہ تھم گیا ۔ کے سی آر نے کہا کہ ملک میں 94 لاکھ ایکڑ پر چاول کی کاشت کی جاتی ہے ۔ جب کہ تلنگانہ میں 56 لاکھ ایکڑ پر دھان کی کاشت کی جاتی ہے ۔۔ ن