ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر ‘ حکومت نزاعی مسائل کو ہوا دینے میں مصروف

   

تجارتی سرگرمیوں کے ماہرین بھی خاموش تماشائی ۔ معاشی گراوٹ کا اعتراف کرنے سے گریز
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد 18 مارچ : حکومت ہند نے 10 سال کے دوران عام ہندوستانی شہریوں کو مختلف مسائل میں الجھائے رکھتے ہوئے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے اور اب ہندوستانی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے لیکن اس وہ طبقہ جو تجارتی سرگرمیوں میں ماہر تصور کیا جاتا ہے تجارتی مندی پر ردعمل ظاہر کرنے کی بجائے حکومت کے پیدا کردہ ’اورنگ زیب ‘ کے مسئلہ میں الجھ کر لاکھوں کروڑ کے نقصانات پر بھی خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ۔2024-2025 کے دوران جو ہندوستانی سرمایہ کاروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہندوستانی معیشت میں گراوٹ آئی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ حکومت نے ملک کو درپیش معاشی مسائل اور معیشت کو نقصانات پر بات کرنے کی بجائے فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہوئے عوام کو الجھائے رکھا ہے۔ وزارت تجارت سے جاری اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو گذشتہ ماہ ہندوستانی تجارتی سرگرمیوں میں مسلسل چوتھے ماہ گراوٹ آئی ہے۔ ہندستانی برآمدات ماہ فروری میں گھٹ کر 36.91بلین ڈالر رہ گئی ہیں جبکہ سال گذشتہ ماہ فروری میں جملہ برآمدات 41.41 بلین ڈالر کی تھیں ۔ حکومت کی جانب سے برآمدات میں گراوٹ کے باوجود مالیاتی خسارہ کا اعتراف کرنے سے گریز کیا جا رہاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی معیشت انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑی ہوئی ہے کیونکہ مالی سال 2024-25 میں شیئر مارکٹ میں خسارہ اور سرمایہ کاروں کو لاکھوں کروڑ کے نقصانات اور بازار میں حصص کی قیمتوں میں گراوٹ سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ بیرونی سرمایہ جو ہندوستانی شیئر بازار میں تھا اس کی نکاسی تیزی سے جاری ہے۔ ملک میں معاشی عدم استحکام کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے ان مسائل سے نمٹنے کی بجائے غیر اہم مسائل پر توجہ دی جار ہی ہے اور عوام کو منقسم کرنے کے منصوبہ پر عمل ہورہا ہے۔ ہندوستان میں وقف بل‘ اورنگ زیب اور دیگر فرقہ وارانہ مسائل سے زیادہ اہم مسئلہ ملک کی گرتی معاشی صورتحال کے دوران حکومت سے بیرونی مصنوعات بالخصوص الکٹرانک وہیکل پر عائد ٹیکس پر مراعات کی فراہمی کا فیصلہ ہے ۔ ہندوستان میں امریکی کمپنیوں بالخصوص ایلان مسک کے داخلہ کیلئے سرخ قالین ہندوستانی معیشت کو مزید تباہ کرنے کا باعث بن سکتی ہے لیکن مرکزی حکومت خاموشی کے ساتھ ملک کے خالی خزانوں کو بھرنے بیرونی کمپنیوں کو من مانی مراعات کی فراہمی میں مصروف ہے۔

اسمبلی میں بی جے پی اور سی پی آئی کی تحریکات التواء نامنظور
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) اسپیکر قانون ساز اسمبلی جی پرساد کمار نے بی جے پی اور سی پی آئی کی 2 تحریکات التواء کو نامنظور کردیا۔ وقفہ صفر کے بعد دونوں تحریکات کی نامنظوری کا اعلان کیا گیا۔ بی جے پی فلور لیڈر مہیشور ریڈی نے طلبہ کو فیس باز ادائیگی کے مسئلہ پر ایوان میں مباحث کا مطالبہ کیا جبکہ سی پی آئی رکن سامبا سیوا راؤ نے آبپاشی پراجکٹس سے متاثرہ کسانوں کو معاوضہ کی ادائیگی پر مباحث کی مانگ کی۔ 1
اسپیکر نے دونوں پارٹیوں کی تحریکات کو نامنظور کرتے ہوئے دیگر قاعدہ کے تحت ایوان میں مسائل پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ 1