خاتون امیدوار شراونتی کو تائید کا یقین، ٹی آر ایس اور بی جے پی کے پاس مقبول خاتون چہروں کی کمی
حیدرآباد ۔27 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) منوگوڑ ضمنی چناؤ میں کانگریس پارٹی نے خاتون رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کی ہے کیونکہ اسمبلی حلقہ میں خاتون رائے دہندوں کی تعداد 1.2 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ انتخابی میدان میں تین اہم امیدوار ہیں جن میں کانگریس کی پی شراونتی واحد خاتون ہیں۔ شراونتی نے 2018 ء کے اسمبلی انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کرتے ہوئے بہتر مظاہرہ کیا تھا۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں انتخابی مہم کیلئے کوئی ایسا خاتون چہرہ موجود نہیں ہے جو خواتین پر اثر انداز ہوسکے۔ ایسے میں کانگریس کی پی شراونتی نے خواتین پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک بار نمائندگی کا موقع فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ خواتین میں شراونتی کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ پارٹی کو امید ہے کہ 1.2 لاکھ خاتون رائے دہندوں کی اکثریت کانگریس کے حق میں ووٹ دے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شراونتی نے ٹی آر ایس اور بی جے پی کی انتخابی مہم سے قبل ہی رائے دہندوں سے رابطہ پروگرام شروع کردیا تھا ۔ دونوں پارٹیوں نے اگرچہ خاتون کارکنوں اور قائدین کو انتخابی مہم میں شامل کیا ہے لیکن کوئی خاص فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ کانگریس کے حق میں سابق نکسلائٹ اور رکن اسمبلی ڈاکٹر ڈی انوسویا (سیتکا) کی مہم کا غیر معمولی اثر دیکھا جارہا ہے۔ سیتکا گھر گھر پہنچ کر رائے دہندوں سے ملاقات کر رہی ہیں۔ تمام پارٹیوں نے اگرچہ اپنے اپنے ووٹ بینک کا تعین کرلیا ہے لیکن کانگریس کی توجہ خاتون رائے دہندوں پر ہے۔ رکن اسمبلی سیتکا کو کاکتیہ دور حکومت کی رانی ردرماں کے طور پر مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ کانگریس امیدوار کا ٹی آر ایس اور بی جے پی کے مرد امیدواروں سے مقابلہ ہے۔ چوٹ اپل منڈل میں انتخابی مہم کی ذمہ داری سابق وزیر ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کو دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سماج میں خواتین ناانصافیوں کے خلاف بہتر انداز میں جدوجہد کرسکتے ہیں۔ اندرا گاندھی اور سونیا گاندھی نے ملک کی سیاست میں جس طرح اہم رول ادا کیا تھا، اسی طرح پی شراونتی منوگوڑ میں کامیابی کے بعد عوام کے درمیان رہیں گی۔ اہم قائدین کی مہم کے علاوہ اضافی وقت میں کانگریس امیدوار نے روزانہ خاتون رائے دہندوں سے ملاقات کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اگر کانگریس کو خاتون رائے دہندوں کی 70 تا 80 فیصد تائید حاصل ہوتی ہے تو نتیجہ پر اس کا خاص اثر پڑے گا۔ر
کسانوں کی پد یاترا میں رکاوٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست
حیدرآباد ۔27 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش میں کسانوں کی پد یاترا کی اجازت منسوخ کرنے کے مسئلہ پر ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اجازت کی منسوخی اور یاترا میں رکاوٹوں کے خلاف کسانوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ پد یاترا میں 600 کسانوں کی مسلسل شمولیت کے بجائے جتھوں کی تبدیلی کی اجازت دینے کی خواہش کی گئی ۔ کسانوں کے ساتھ مختلف کلچرل ٹروپس اور فنکار اظہار یگانگت کیلئے موجود رہیں گے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کسانوں کی تائید کرنے والے افراد راستہ میں کھانے کا انتظام کر رہے ہیں۔ عدالت نے اس معاملہ کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی ہے ۔ ر