مودی۔ بی جے پی کا اقتدار خاتمہ کی جانب رواں دواں

   

پریم شنکر جھا
ملک کے موجودہ حالات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان پر مودی اور بی جے پی کی حکمرانی شائد بالآخر اپنے خاتمہ کے طرف آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کاکروچ جنتا پارٹی کا اچانک منظر عام پر آنا (انسٹاگرام و دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر سی جے پی ارکان کی تعداد کروڑوں میں پہنچ جاتا) باالفاظ دیگر کاکروچ جنتا پارٹی کا عروج کوئی غیر اہم اور عارضی واقعہ نہیں ہے بلکہ جنتر منتر پر احتجاجی نوجوانوں کو جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد تو یہی سمجھا جارہا ہے کہ ملک کس سمت جارہا ہے وہ یقینا ایک انتباہ ایک وارننگ ہے۔ ملک میں کاکروچ جنتا پارٹی کا عروج، جنتر منتر پر نوجوانوں کا کامیاب احتجاج، احتجاج کے دوران نوجوانوں پر پولیس اور نیم فوجی فورسیس کا تشدد اور پھر مودی کابینہ میں وزیر تعلیم کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے دھرمیندر پردھان کا استعے ایسی تبدیلیاں اور ایسے واقعات ہیں جس نے بی جے پی سے کہیں زیادہ نریندر مودی کو پریشان کیا ہے۔ گجرات کے عہدہ چیف منسٹری اور پھر ملک کے عہدہ وزارت پر فائز ہوکر 35 سال سے اقتدار میں رہنے کے بعد مودی کے لئے شائد یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ اقتدار کی بلندیوں پر ان کے دن اب گنے جاچکے ہیں لیکن کسی اور کرشمہ یا پلوامہ جیسے واقعہ کے سواء اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ بی جے پی 2029 میں دوبارہ اقتدار میں واپس آئے گی۔ بہار جیسی ریاست میں الیکشن کمیشن کی جانب سے 10 فیصد سے زیادہ رائے دہندوں کے ساتھ ایسا کیا جاچکا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ نیٹ امتحان میں 20 لاکھ سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ ایسے میں پیپر لیک ہونے پر ان کا برہم ہونا فطری تھا۔ ان کا غصہ جائز تھا ان طلبہ نے اس امید کے ساتھ نیٹ لکھا تھا کہ ملک کے 823 میڈیکل کالجس کی 1,37,000 سیٹوں میں سے اسے بھی نشست حاصل ہوگی اور وہ میڈیکل کالجس میں داخلہ لے کر ایک دن ڈاکٹر بن جائیں گے۔ طلبہ اس امید میں بھی تھے کہ 1.37 لاکھ میڈیکل نشستوں کے علاوہ تقریباً 80 ہزار نشستیں ویٹرنیری اور ایورویدک کالجس میں موجود ہیں لیکن جب وہ اس انتہائی اہم امتحان لکھ چکے تب انہیں پتہ چلا کہ سوالنامہ لیک ہوچکا ہے، امتحان منسوح کردیا گیا ہے، ایسے میں انہیں دوبارہ نیٹ لکھنا ہوگا۔ خودکشی کرنے والے طلبہ کی تعداد میں 80% اضافہ درج کیا گیا ہے۔ 2014 میں خودکشی کرنے والے طلبہ کی تعداد 8060 تھی جو سال 2024 میںبڑھ کر 14,488 ہوگئی۔ اگرچہ بریک اپ (محبت میں ناکامی کے سبب تعلقات توڑنے) اور خاندان میں تناؤ کو سب سے زیادہ اہم وجہ (خودکشی) کی بتائی جارہی ہے لیکن نیٹ جیسے انتہائی اہم اور زندگی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے امتحانات میں ناکامی دوسری اہم وجہ قرار دی جارہی ہے۔ کیریئر 360 کے مطابق سال 2024 میں 18 سال سے کم عمر لڑکے لڑکیوں میں ہونے والے 1071 خودکشی کے واقعات میں سب سے بڑی اور اہم وجہ امتحانات میں ناکامی رہی۔ وزیر اعظم مودی چاہتے تو طلبہ کے اس مطالبہ کو قبول کرسکتے تھے لیکن انہوں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا اور ان کی اسی غلطی نے جہاں کاکروچ جنتا پارٹی کو مضبوط کردیا وہیں اپوزیشن میں بھی ایک نئی توانائی پیدا کردی۔ اس احتجاج میں لداخ کے سماجی رہنما سونم وانگچک بھی شامل ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے جنترمنتر پر شروع کی گئی طلبہ کی تحریک مودی اور ان کی حکومت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن گئی۔ نتیجہ میں مودی کو اپنے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے لینا پڑا۔ مودی کو بچے گالیاں دینے لگے ہیں جبکہ مودی جی نے اپنا لب و لہجہ بدل دیا اور کہا کہ وہ گمراہ بچوں کو معاف کرتے ہیں۔ ہاں دوسری طرف مدھیہ پردیش کے دتیا اسمبلی حلقہ میں بھی بی جے پی بری طرح شکست کھا گئی۔ خیر 2009 میں 20 فیصد نوجوان ووٹر بی جے پی کے ساتھ تھے جو 2014 میں 34 فیصد ہوگئے۔ 2019 میں بی جے پی کی تائید و حمایت کرنے والے نوجوانوں کی تعداد 41 فیصد تھی۔ فی الوقت 38 فیصد ہے لیکن بی جے پی کو ان نوجوانوں کی تائید و حمایت سے محروم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔