پارٹی دفاتر اور پارٹی قائدین پر حملوں کو برداشت نہ کرنے کا کانگریس کو انتباہ
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کہا کہ موسیٰ ندی ڈیولپمنٹ پراجکٹ کانگریس کے لیے اے ٹی ایم میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ حکومت موسیٰ ندی کو صفائی کرنے کے بجائے موسیٰ ندی کے اطراف واکناف رہنے والے غریب عوام کا صفایا کررہی ہے ۔ ضلع یدادری بھونگیر ہیڈکوارٹر پر بی آر ایس آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کویتا نے کہا کہ کانگریس حکومت پر موسیٰ ندی کے متاثرین کو بلیک میل کرتے ہوئے دہلی کو نوٹوں کے تھیلے منتقل کرنے کا الزام عائد کیا ۔ کویتا نے کانگریس کے غنڈوں کی جانب سے بی آر ایس کے قائدین اور کارکنوں پر حملے کرنے پولیس کی طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے پارٹی قائدین پر جھوٹے مقدمات درج کرنے زبردستی گھروں میں گھس کر گرفتار کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ بی آر ایس پارٹی مقدمات ، گرفتاریاں اور جیل جانے سے خوفزدہ نہیں ہوگی بلکہ مزید عزم و حوصلے کے ساتھ عوامی مسائل کو اٹھانے کے معاملے میں اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرے گی ۔ کویتا نے کہا کہ کے سی آر کی تیار کردہ 60 لاکھ پارٹی کارکنوں کی فوج فی الحال صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ اگر ہمارے صبر کو مزید آزمایا گیا تو حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا کے لیے تیار رہنا پڑے گا ۔ کویتا نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے قائدین کھلے عام غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی آر ایس پارٹی دفاتر پر حملے کررہے ہیں اور پولیس خاموش تماشہ دیکھ رہی ہے ۔ کویتا نے کہا کہ موسیٰ ندی ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے نام پر ہزاروں کروڑ عوامی دولت کو ضائع کیا جارہا ہے ۔ کانگریس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ ریاست میں کسانوں کی خود کشی واقعات میں اضافہ ہوجانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کو سرکاری قتل قرار دیا ۔۔ 2