موسیٰ ندی کے متاثرین کو مکمل انصاف، بے گھر خاندانوں کو گھر کی فراہمی

   

وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی سریدھر بابو کا وعدہ، اپوزیشن پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام، حیدرآباد کو ورلڈ بیسٹ سٹی کے طور پر ترقی کا منصوبہ
حیدرآباد /29 ستمبر ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے تیقن دیا کہ موسٰی ندی ڈیولپمنٹ پراجکٹ متاثرین کے ساتھ حکومت مکمل انصاف کرے گی اور غریبوں کے ذاتی مکان کا خواب پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے بھروسہ دلایا کہ ذاتی مکان سے محروم افراد کو اندراماں انڈلو کے تحت مکانات فراہم کئے جائیں گے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سریدھر بابو نے اپوزیشن پر متاثرین کو گمراہ کرکے مشتعل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت تمام متاثرہ غریبوں کا تحفظ کرے گی اور انہیں متبادل فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سریدھر بابو نے کہاکہ حیدرآباد کو ورلڈ بیسٹ سٹی کے طور پر ترقی دینے حکومت اقدامات کررہی ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت موسیٰ ندی پراجکٹ پر عمل کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کے تحت دریائے گوداوری کا پانی موسیٰ ندی میں چھوڑنے کا حکومت نے منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی پر لنک روڈس تعمیر کئے جائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ موسیٰ ندی کے تحفظ اور اسے آلودگی سے پاک بنانے بی آر ایس حکومت نے 10 برس میں کیا اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا کہ دس برسوں میں موسیٰ ندی کی ترقی میں ناکام بی آر ایس قائدین آج متاثرین کیلئے مگرمچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی آر ایس حکومت نے ملنا ساگر پراجکٹ کے متاثرین کی کس طرح مدد کی تھی۔ کانگریس قائدین کو ملنا ساگر کے دورہ سے روک دیا گیا تھا اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مفاد پرست سیاسی قائدین عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ حکومت کا امیج متاثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی ایف ٹی ایل علاقہ میں اراضی کی فروخت کرنے والے بلڈرس کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ موسیٰ ندی کا تحفظ ریونت ریڈی حکومت کا اہم فیصلہ ہے اور اس سے نہ صرف علاقہ میں ترقی ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ سریدھر بابو نے بتایا کہ متاثرین سے بات کرتے ہوئے حکومت غیر مجاز تعمیرات کو ختم کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غریبوں کو بے گھر کرنے حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ حکومت نے متاثرین کو متبادل مکانات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کے حدود میں غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا جائے گا۔ سریدھر بابو نے موسیٰ ندی کے متاثرین کو چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو دریائے کرشنا اور گوداوری سے پانی کی سربراہی کا اعزاز کانگریس کو حاصل ہے۔ موسیٰ ندی پر فلائی اوورس کی تعمیر عمل میں آئے گی اور حیدرآباد کو عالمی شہر کے طور پر ترقی دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 35 مختلف ٹیموں کے ذریعہ معاشی سروے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ حکومت نے پراجکٹ پر 12 رضاکارانہ تنظیموں سے مشاورت کی ہے۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہاکہ حکومت کی نیک نامی متاثر کرنے متاثرین کو مشتعل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیڈرا کی کارروائیوں پر عوام میں غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حیڈرا صرف غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔1