نئی دہلی :اتر پردیش کے لکھنؤ ضلع میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے 10 ستمبر کو معروف داعی اسلام مولانا کلیم صدیقی، عمر گوتم سمیت دیگر 16 افرراد کو مبینہ طور پر غیر قانونی مذہب تبدیلی معاملہ میں قصوروار ٹھہرایا تھا۔ لکھنؤ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وویکا نند شرن ترپاٹھی نے مولانا عمر گوتم، مولانا محمد کلیم صدیقی اور دس دیگر کو آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ دیگر 4 افراد کو دس سال قید کی سزا دی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا کلیم صدیقی، مولانا عمر گوتم و دیگر کو سیشن کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف فیصلہ کو الہ آباد ہائیکورٹ کی لکھنو بنچ میں چیلنج کیا گیا۔ مولانا کلیم صدیقی اور مولانا عمرگوتم کے علاوہ دیگر قصورواروں میں سے ایک عرفان شیخ نے سیشن کورٹ کے فیصلہ کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے و الے عرفان شیخ پہلے ملزم ہیں جنہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی ہے۔اس کی اطلاع جمعہ کو جمعیۃ علمائے ہند نے پریس ریلیز میں دی۔ اپیل پر جمعرات کو ہائی کورٹ کی 2رکنی بنچ نے سماعت کی جس کے دوران عرفان خان کے دفاع میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سینئر ایڈوکیٹ اوپی تیواری اور ایڈوکیٹ فرقان پٹھان پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران جسٹس عطاء الرحمن مسعودی اور جسٹس اجئے کمار سری واستو پر مشتمل دو رکنی بنچ کو ایڈوکیٹ او پی تیواری نے بتایاکہ نچلی عدالت نے ناکافی ثبوت اور شواہد کی عدم موجودگی کے باوجود عمر قید کی سزا سنائی ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ایڈوکیٹ تیواری نے کورٹ کو متوجہ کیا کہ جن دفعات کے تحت نچلی عدالت نے سزا سنائی ہے اِس کیس میں ان دفعات کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔