حیدرآباد۔/2 جولائی، ( سیاست نیوز) ملک کے قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی دن بہ دن گھٹتی جارہی ہے۔ سیکولر پارٹیوں کو الیکشن میں مسلمانوں کی تائید اور ووٹ چاہیئے لیکن وہ پارلیمنٹ، اسمبلی اور کونسل میں مسلم نمائندگی کے حق میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ مہاراشٹرا جہاں حالیہ لوک سبھا انتخابات میں مسلمانوں نے کانگریس، شیوسینا اور این سی پی اتحاد کی نہ صرف تائید کی بلکہ مسلم مذہبی، سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں نے سیکولر اتحاد کے حق میں مہم چلائی جس کے نتیجہ میں انڈیا الائینس کا مہاراشٹرا میں مظاہرہ بہتر رہا۔ مہاراشٹرا کے مسلمانوں کو امید تھی کہ تائید کے صلہ میں قانون ساز اداروں میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کیا جائے گا لیکن مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ مہاراشٹرا قانون ساز کونسل میں جاریہ ماہ مسلم نمائندگی ختم ہوجائے گی جبکہ ایوان میں موجود دونوں مسلم ارکان کی میعاد 27 جولائی کو ختم ہورہی ہے۔ قانون ساز کونسل میں جملہ 78 ارکان ہیں جن میں دو مسلم بابا جانی درانی اور وجاہت مرزا ہیں ان دونوں کی میعاد 27 جولائی کو ختم ہورہی ہے۔ کانگریس، این سی پی اور شیو سینا اتحاد کی جانب سے ایک بھی مسلمان کو کونسل کے انتخابات میں ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے نتیجہ میں 27 جولائی کے بعد قانون ساز کونسل میں مسلمانوں کی نمائندگی ختم ہوجائے گی۔ موجودہ صورتحال سے مہاراشٹرا کے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ ناندیڑ سے کسی مسلم قائد کو کونسل کیلئے نامزد کیا جائے گا۔ تینوں پارٹیوں نے کونسل کی مخلوعہ نشستوں کے چناؤ میں ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے قائدین اور تنظیموں نے سیکولر پارٹیوں کے رویہ پر ناراضگی جتائی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کانگریس، این سی پی اور شیو سینا ( ادھو ٹھاکرے ) کو لوک سبھا چناؤ میں ٹکٹ دینے کا انعام کونسل میں مسلم نمائندگی سے محرومی کی شکل میں ملا ہے۔ قائدین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اپنا حق مانگنے کیلئے نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے آگے بھیک کا کٹورا لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 1
مسلمانوں کو اپنی عزت نفس کو برقرار رکھتے ہوئے دلت اور پسماندہ طبقات کے ساتھ ملکر اپنے حق کیلئے جدوجہد کرنی چاہیئے۔ ناندیڑ کے مسلمانوں نے عہد کیا ہے کہ وہ آئندہ کسی بھی الیکشن میں سیاسی پارٹیوں کی تائید کے بجائے دلت اور کمزور طبقات کے ساتھ ملکر اپنا نمائندہ منتخب کرائیں گے۔ اسمبلی اور کونسل دراصل قانون ساز ادارے ہیں جہاں ریاست کے عوام کی بھلائی کے حق میں فیصلے کئے جاتے ہیں۔ قانون ساز کونسل کو ایوان بالا بھی کہا جاتا ہے اور اس کی منظوری کے بغیر کوئی قانون نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے اہم ادارے میں مسلمانوں کی نمائندگی کا صفر ہوجانا تشویش کا باعث ہے۔ مسلمانوں کا احساس ہے کہ مہاراشٹرا میں گذشتہ 45 برسوں سے ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے۔ مہاراشٹرا کے مسلمانوں اور ان کے نمائندوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا خود فیصلہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ کی مساعی کرنی چاہیئے۔1