مہلوک طلباء کے والدین سے حکومت معذرت کرے

   

طلباء کو معاف کردینے وزیراعظم کے بیان کی مذمت۔ شیوسینا لیڈر ادھو ٹھاکرے کا بیان
ممبئی، یکم اگست (یو این آئی) شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور پارٹی کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے احتجاجی طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کو مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو معافکرنے کی بات کہی تھی۔ ادھو ٹھاکرے نے وزیراعظم کے ویڈیو بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، پہلے آپ نے ان بچوں کو کاکروچ’ ور گمراہ’قرار دیا، اب آپ کہتے ہیں کہ آپ نے انہیں معاف کر دیا۔ لیکن کیا یہ بچے آپ کو کبھی معاف کریں گے ؟ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے طلبہ سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹوٹی ہوئی ہڈیاں، پھٹے ہوئے کپڑے اور پولیس زیادتیوں کی داستانیں سن کر ان کی روح کانپ اٹھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کیل لگی لاٹھیاں، پیلیٹ گن اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ سے حکومت کو باضابطہ معافی مانگنی چاہیے ۔ انہوں نے حکومت کے رویہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے شدت پسندوں یا پاکستان سے بات چیت میں تو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی، لیکن اپنے ہی ملک کے نوجوانوں سے بات کرنے کی بنیادی خواہش بھی نظر نہیں آتی۔ پونے میں لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک کی برسی کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کو اعزاز دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ برطانوی دور میں گنگا دھر تلک کو فادر آف انڈین اَن ریسٹ کہا جاتا تھا، لیکن آج موجودہ حکومت نے اپنی پالیسیوں سے خود عوام میں اپنے خلاف شدید ناراضگی پیدا کر دی ہے ۔ ادھر شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ حکام نے طلبہ کے خلاف سرکاری سرپرستی میں دہشت کا ماحول قائم کر دیا ہے ۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی میں پرامن مظاہرین پر پیلیٹ گن، الیکٹرک جھٹکا دینے والی لاٹھیاں، آنسو گیس اور کیل لگی لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ بہار میں طلبہ کے احتجاج کو منتشر کرنے اے کے -47 رائفلوں کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانٹینٹ کریئیٹرز کو نشانہ بنایا گیا اور اسکولوں و کالجوں کے طلبہ کو ان کے گھروں سے اٹھایا گیا۔ آدتیہ ٹھاکرے نے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔