میئر حیدرآباد وجئے لکشمی کو کوئی خطرہ نہیں ،بی آر ایس کے پاس درکار عددی طاقت نہیں

   

تحریک عدم اعتماد کیلئے 98 ارکان کی تائید ضروری جبکہ بی آر ایس کے پاس صرف 80 ارکان ہی موجود
حیدرآباد۔ 22 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کی جانب سے میئر حیدرآباد جی وجئے لکشمی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد یہ مسئلہ سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ جی ایچ ایم سی کا قانون اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ کتنے ارکان کی تائید درکار ہوگی؟ کتنے ارکان کی مدد کرنے پر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی؟ اس پر بحث جاری ہے۔ بی آر ایس کے دورِ حکومت میں ہی نیا میونسپل قانون متعارف کرایا گیا تھا جس میں جی ایچ ایم سی کے قانون میں بھی ترمیم کی گئی تھی۔ قبل ازیں دو سال میعاد مکمل کرنے کے بعد میئر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی گنجائش تھی، جس کو بڑھاکر چار سال کردیا گیا ہے۔ جی ایچ ایم سی کی موجودہ کونسل 10 فروری 2025ء اپنی چار سالہ میعاد مکمل کررہی ہے۔ اگر بی آر ایس کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنا ہو تو وہ 10 فروری کے بعد ہی کرسکتی ہے۔ قانون کے مطابق 50% ارکان کی تائید کے ساتھ پریسائیڈنگ آفیسر کے ساتھ خدمات انجام دینے والے کلکٹر حیدرآباد کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنا پڑتا ہے جس کے جائزہ لینے کے بعد کلکٹر ،کونسل کے اجلاس کی تاریخ مقرر کرتے ہیں۔ اس اجلاس میں دو تا تین تہائی ارکان تحریک کی مدد کرتے ہیں۔ جی ایچ ایم سی میں 150 کے منجملہ ہیں جن 146 کارپوریٹرس ہیں۔ ان کے ساتھ 50 ایکس آفیشیو (معاون ارکان) ہیں۔ دونوں کو شمار کرنے پر کونسل کے ارکان کی تعداد 196 ہوتی ہے جس میں 131 ارکان کی تائید حاصل ہونے پر ہی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے۔ بصورت دیگر آئندہ ایک سال تک دوبارہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ جی ایچ ایم سی کونسل میں 198 ارکان کی بہ نسبت 98 ارکان کی تائید پر پریسائیڈنگ آفیسر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی اجازت دی جاتی ہے۔ 2020ء میں منعقدہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی آر ایس کے 56، بی جے پی کے 48، مجلس کے 44، کانگریس کے 2 کارپوریٹرس نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اسمبلی انتخابات کے بعد میئر وجئے لکشمی، ڈپٹی میئر ایم سری لتا ریڈی کے علاوہ دیگر پارٹیوں کے ارکان نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی جس کے بعد بی آر ایس کارپوریٹرس کی تعداد گھٹ کر 40 ہوگئی، بی جے پی کے 41 اور مجلس کے 41 اور حکمران کانگریس پارٹی کے کارپوریٹرس کی تعداد 2 سے بڑھ کر 24 ہوگئی۔ گریٹر حیدرآباد کے 24 اسمبلی حلقوں میں 11 بی آر ایس ، 7 پر مجلس، ایک پر بی جے پی، 5 حلقوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 5 لوک سبھا حلقے ہیں جس میں 4 پر بی جے پی کو ایک پر مجلس کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ جی ایچ ایم سی کونسل میں ارکان کی عددی طاقت کے لحاظ سے بی آر ایس کو تنہا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا موقع نہیں ہے۔ ارکان اسمبلی اور کارپوریٹرس کیلئے وہپ جاری کرنے کی صورت میں بھی بی آر ایس ارکان کی تعداد 80 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اس تناظر میں اصل اپوزیشن کا کیا فیصلہ ہوگا، سب کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔ 2