نئے سکریٹریٹ کی افتتاحی تقریب کا التواء سیاسی محرکات پر مبنی

   

برسر اقتدار پارٹی پر منفی اثر ممکن، اساتذہ زمرے کے ایم ایل سی انتخابات کے بعد کونسل ارکان انتخابات کیلئے انتخابی ضابطے اخلاق

حیدرآباد۔12فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ سیکریٹریٹ کی نئی عمارت کا افتتاح مارچ کے اواخر میں عمل میں آئے گا یا موجودہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے اختتام سے قبل مابقی تین ارکان قانون ساز کونسل کے انتخاب کے لئے اعلامیہ جاری کردیا جائے گا! اور انتخابی ضابطہ اخلاق کا نفاذ جاری رہے گا!ماہ مارچ میں جن ارکان قانون ساز کونسل کی معیاد مکمل ہورہی ہے ان کے انتخاب کا عمل 21مارچ 2023 سے قبل کیا جانا ہے جبکہ ماہ مئی کے دوران مزید تین ارکان قانون ساز کونسل کی معیاد مکمل ہونے جارہی ہے جن میں جناب سید امین الحسن جعفری جو کہ حیدرآباد ادارہ جات مقامی کے زمرہ میں منتخب ہوئے ہیں ان کے علاوہ جناب محمد فاروق حسین اور مسٹر ڈی راجیشور راؤ گورنر کوٹہ کے ارکان شامل ہیں۔نئے سیکریٹریٹ کی عمارت کی افتتاحی تقریب ملتوی کردیئے جانے کو بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور اندرون پارٹی یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ ریاستی حکومت کو 17فروری یعنی چیف منسٹر کی سالگرہ کے دن نئے سیکریٹریٹ کی عمارت کی افتتاحی تقریب منعقد کرنے سے روکا جانا ان کی کامیابی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن سے کوئی شکایت نہیں کی بلکہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نام سے موسوم کی گئی سیکریٹریٹ کی اس عمارت کا چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی سالگرہ کے دن افتتاح کئے جانے کے منصوبہ پر بی جے پی نے شدید اعتراض کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی قائدین سیکریٹریٹ کی افتتاحی تقریب کو الیکشن کمیشن کی جانب سے اجازت نہ دیئے جانے پر باضابطہ اس کا سہرا اپنے سر نہیں باندھ سکتے لیکن وہ اپنے کارکنوں اور قائدین کے درمیان یہ گفتگو کرنے لگے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو سیکریٹریٹ کی عمارت کے افتتاح کو ملتوی کیا جانا ان کی بڑی کامیابی ہے۔تلنگانہ سیکریٹریٹ کی عمارت کی تعمیر پر ابتداء سے ہی سیاست ہوتی آرہی ہے اور کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سیکریٹریٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کے آغاز سے قبل سے ہی قدیم عمارتوں کے انہدام کی مخالفت کی جا رہی تھی لیکن جب حکومت کی جانب سے ریکارڈ مدت میں سیکریٹریٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کے کاموں کو مکمل کرتے ہوئے اس کے افتتاح کے اقدامات کئے جا رہے تھے تو ایسے وقت انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے سبب اس نئی عمارت کے افتتاح کی الیکشن کمیشن نے اجازت نہیں دی ہے ۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ کے مطابق 16 مارچ کو اساتذہ کے حلقہ کے رائے دہندوں کی جانب سے ڈالے جانے والے ووٹوں کی رائے شماری اور نتائج کے اعلان تک انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ رہے گا ۔ ما ہ مئی میں جن ارکان قانون ساز کونسل کی معیاد مکمل ہورہی ہے ان کے لئے گریجویٹ یا اساتذہ کے علاوہ کسی اور کو رائے دہی کرنی نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود یہ کہا جا رہاہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کی بنیاد پر نئے سیکریٹریٹ کی افتتاحی تقریب ماہ مئی تک ملتوی کی جاسکتی ہے ۔سیاسی جماعتیں تقریب کے التواء کو برسرعام سیاسی قرار دینے سے گریز کر رہی ہیں لیکن کہا جا رہاہے کہ نئے سیکریٹریٹ کی تقریب کا التواء سیاسی محرکات پر مبنی ہونے اور برسراقتدار جماعت پر اس کے منفی اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔م