حیدرآباد۔ 23 ستمبر (سیاست نیوز) سٹی پولیس کمشنر وی سی سجنار نے گنیش وسرجن 2026 کے لئے حیدرآباد سٹی پولیس پوری تیار ہے ۔ مرکزی جلوس کی نگرانی کے لئے 10 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے، 24 ڈرونز اور تقریباً 100 بلند عمارتوں پر نصب کیمرے استعمال کیے جائیں گے۔وی سی سجنار نے پولیس کمانڈ کنٹرول میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں وسرجن سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بالاپور گنیش کے آخری جلوس میں حیدرآباد، سائبرآباد، ملکاجگیری، فیوچر سٹی اور پڑوسی اضلاع سے لاکھوں بھکتوں اور ہزاروں گنیش مورتیاں شامل رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وسرجن کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 20 ہزار پولیس عہدیدار کو تعینات کئے گئے ہیں۔قانون و نظم، ٹریفک، ٹاسک فورس، اسپیشل برانچ، سٹی سکیورٹی ونگ اور سی اے آر یونٹس سے وابستہ تقریباً 20 ہزار اہلکار ڈیوٹی انجام دیں گے۔ دیگر اضلاع سے 42 پلاٹون پر مشتمل 8,142 تجربہ کار پولیس اہلکاروں کو سات سکیورٹی زونز میں تعینات کیا گیا ہے۔ اس وسرجن کے لئے حیدرآباد پولیس نے انتظامات تین ماہ قبل شروع کردیئے تھے۔ کمشنر پولیس وی سی سجنار نے مختلف سرکاری محکموں، گنیش اتسو کمیٹیوں، امن کمیٹیوں اور مورتی سازوں کے نمائندوں کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کئے۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے 12 ستمبر کو اعلیٰ سطحی اجلاس میں عہدیداروں کو ضروری ہدایات جاری کی تھے جبکہ حیدرآباد کے انچارج وزیر پونم پربھاکر نے 13 ستمبر کو تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ انتظامات میں جی ایچ ایم سی، برقی، واٹر بورڈ، ٹرانسپورٹ، فائر سروسز، صحت، حیڈرا، ایچ ایم ڈی اے اور دیگر محکمے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے مطابق گنیش پنڈالوں کی اجازت کے لیے 15,426 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے فیلڈ تصدیق کے بعد 14,929 پنڈالوں کو اجازت دی گئی۔ تمام منظور شدہ پنڈالوں کی جیو ٹیاگنگ کی گئی ہے اور وہاں آگ سے تحفظ اور برقی سلامتی سے متعلق تلگو اور انگریزی زبان میں پوسٹرس آویزاں کئے گئے ہیں۔ ب؍F
اب تک مختلف علاقوں سے لائی گئی 32,878 گنیش مورتیوں کا وسرجن مکمل ہوچکا ہے، جن میں 6,108 مورتیوں کا تعلق حیدرآباد شہر سے ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کی حدود میں 2,161 مورتیوں کا وسرجن کیا گیا۔ تلنگانہ اسٹیٹ پولیس انٹیگریٹیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر واقع بنجارہ ہلز سے جلوس کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ مرکزی جلوس کے راستوں پر نصب 10 ہزار سے زائد کیمروں کو کنٹرول روم سے مربوط کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 24 ڈرونز، تقریباً 100 ہائی رائز کیمرے، واچ ٹاورس اور بلند عمارتوں پر تعینات عہدیدار ہجوم کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں گے۔ پولیس عہدیدار دوربینوں اور وائر لیس سیٹ کے ذریعہ کنٹرول روم سے مسلسل رابطے میں رہیں گے۔ حساس علاقوں میں ریاپڈ ایکشن فورس کی چار کمپنیاں چارمینار، گولکنڈہ، راجندر نگر اور شمس آباد زونز میں تعینات رہیں گی۔ خیریت آباد اور سکندرآباد میں سی آر پی ایف کی دو کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ شہر میں 53 بم ڈٹیکشن ٹیمیں بھی تلاشی مہم انجام دے رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق جلوس کے دوران ڈی جے سسٹم، ساؤنڈ مکسر، تیز آواز والے آلات اور پٹاخوں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور تہوار کو پرامن ماحول میں منائیں۔ انہوں نے کہا کہ تہوار کی آڑ میں بدسلوکی، فحش حرکات، نفرت انگیز تقاریر یا اشتعال انگیز مواد کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کمشنر نے سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا انتباہ دیا۔ ب؍F