ری سائیکلنگ کا عصری سسٹم الیکٹرانک فضلاء ممبئی اور دہلی میں سب سے زیادہ
حیدرآباد۔ 16 اگست (سیاست نیوز) ہندوستان میں الیکٹرانک آلات کے استعمال میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ کمپیوٹرس، سیل فونس، ٹیلی ویژنس اور دیگر الیکٹرانک آلات کے استعمال کے نتیجہ میں اہم شہروں میں الیکٹرانک فضلاء بھی زیادہ پیدا ہو رہا ہے۔ الیکٹرانک فضلاء جسے E-Waste بھی کہا جاتا ہے اس کی فوری عدم یکسوئی کی صورت میں ماحولیات کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ای ۔ ویسٹ جو کہ حقیقی معنوں میں ناکارہ الیکٹرانک آلات ہوتے ہیں جن میں کیمیاوی اشیاء کی موجودگی ماحولیاتی آلودگی کو خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔ اگر ناکارہ الیکٹرک آلات کی ری سائیکلنگ نہ کی جائے اور انہیں مناسب طور پر استعمال نہ کیا جائے تو ایسی صورت میں ماحولیاتی آلودگی میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔ ای ۔ ویسٹ کے بڑھتے ہوئے چیالنج میں ممبئی ملک میں سرفہرست ہے جہاں ہر سال 1,20,000 میٹرک ٹن الیکٹرانک فضلاء تیار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس شہر میں الیکٹرانک آلات کا استعمال زیادہ ہوگا وہاں ای ۔ ویسٹ کی مقدار بھی زائد رہے گی۔ ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے الیکٹرانک آلات کی وقتاً فوقتاً تبدیلی کے رجحان میں اضافہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں ممبئی، دہلی، بنگلورو، چینائی اور کولکتہ میں ای ۔ ویسٹ کی مقدار ہر سال زیادہ ریکارڈ کی جاتی ہے۔ دہلی میں ناکارہ الیکٹرانک آلات ہر سال 98000 میٹرک ٹن تیار ہوتے ہیں جبکہ بنگلورو میں ای ۔ ویسٹ کی مقدار 92000 میٹرک ٹن درج کی گئی ہے۔ چینائی میں 67000 اور کولکتہ میں 55000 میٹرک ٹن سالانہ ای ۔ ویسٹ حکام کے لئے کسی چیالنج سے کم نہیں ہے۔ ناکارہ الیکٹرانک آلات کی ری سائیکلنگ اور ان میں موجود کیمیاوی اثرات کو ختم کرنے کے لئے باقاعدہ علیحدہ سسٹم اختیار کیا جارہا ہے۔ 1؍F