ناگپور: ناگپور میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ملزم کے گھر کو مسمار کیے جانے پر بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں ریاستی حکومت کو اس وقت خفت کا سامنا کرنا پڑا جب میونسپل کمشنر ابھیجیت چودھری نے اعتراف کیا کہ انہیں سپریم کورٹ کے ان احکامات سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا تھا جو فسادات میں ملوث افراد کی جائیدادوں کو مسمار کرنے سے قبل قانونی عمل کی پابندی سے متعلق تھے ۔ عدالت میں داخل حلف نامے میں چودھری نے واضح کیا کہ یہ انہدام سپریم کورٹ کی ہدایات سے لاعلمی کی بنیاد پر عمل میں آیا، جان بوجھ کر کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔17 مارچ کو ناگپور میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی تھی جب افواہ پھیلی کہ وشوا ہندو پریشد کے احتجاج کے دوران ایک چادر، جس پر قرآنی آیات درج تھیں، کو نذر آتش کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد شہر میں فسادات بھڑک اٹھے ، اور پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لیا۔