یروشلم۔ 5 جولائی (یو این آئی) اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو آبادکاروں کے حملوں میں شدید اضافے کا سامنا ہے ، جبکہ موجودہ حکومت کے دوران غیر قانونی بستیوں کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اسرائیلی چینل 12 نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ 2022 کے آخر میں بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے قیام کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق، مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعداد 128 سے بڑھ کر 178 ہو گئی ہے ، جو کہ تقریباً 40 فیصد اضافے کے مترادف ہے ، دوسری جانب فلسطینیوں کے مکانات کی بیمثال مسماری بھی جاری ہے ۔ یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے 14 وزراء اور کنیسٹ کے اسپیکر امیر اوہانا نے ایک خط پر دستخط کیے جس میں نیتن یاہو سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ علاقے کو فوری طور پر اسرائیل میں ضم کریں۔ گزشتہ ہفتہ 28 جون کو مغربی کنارے کے مرکزی علاقے میں واقع قصبے کفر مالک پر آبادکاروں کے مہلک حملے میں تین فلسطینی جاں بحق اور سات زخمی ہوئے ۔ ٹی وی کے مطابق نئی بستیوں کے اعلان، غیر قانونی چوکیوں کے قیام کی بے مثال رفتار، اسٹریٹجک سڑکوں کی تعمیر، اور فلسطینی عمارتوں کی بڑے پیمانے پر مسماری کا مقصد علاقے پر یہودی کنٹرول کو مضبوط کرنا اور دو ریاستی حل کو مؤثر طریقے سے ختم کرنا ہے ۔
چینل نے دائیں بازو کی تنظیم ریگاوی کے سی ای او میر ڈوئچ کے حوالے سے کہا کہ کسی بھی حکومت نے آبادکاری کو اس حد تک فروغ نہیں دیا جتنا کہ موجودہ حکومت نے ۔ رپورٹ کے مطابق، موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم 50 نئی غیر قانونی بستیوں کا اعلان کیا گیا ہے ۔