نقل مقام کر کے آنے والے پرندوں کی پاکھال جھیل میں آمد کا آغاز

   

حیدرآباد ۔ 27 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : نقل مقام کر کے آنے والے پرندوں کی ضلع ورنگل میں نرسم پیٹ کے قریب پاکھال جھیل میں آمد شروع ہوگئی ہے کیوں کہ گرما اچھی طرح شروع ہوگیا ہے ۔ یہ جھیل نیچر اور پرندوں کے شوقین لوگوں کے لیے بڑی کشش رکھتی ہے اور یہ ایڈوینچر سے بھر پور سرگرمیوں کے خواہاں سیاحوں کے لیے ایک پسندیدہ اور مشہور مقام بن گئی ہے ۔ نرسم پیٹ ٹاون سے تقریبا 10 کلومیٹر اور ورنگل سٹی سے 57 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع پاکھال جھیل تلنگانہ کی ان چند جھیلوں میں ایک ہے جس میں آلودگی نہیں ہے ۔ اسے 1213AD میں کاکتیہ حکمران گنپتی دیوا کی جانب سے تعمیر کیا گیا تھا ۔ محکمہ جنگلات اور تلنگانہ اسٹیٹ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے عہدیداروں نے اس ضلع میں پاکھال وائلڈ لائف سینکچری کو فروغ دیا ہے ۔ نقل مقام کر کے آنے والے سینکڑوں پرندے پاکھال جھیل میں آگئے ہیں ۔ یہ بات نرسم پیٹ فاریسٹ رینج افیسر بی رمیش نے بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ 30 مربع کلو میٹر پر پھیلی ہوئی پاکھال جھیل نیچر کے دلدادہ لوگوں کے لیے ایک پرسکون ، خاموش منظر فراہم کرتی ہے ۔ ملک کے شمالی حصوں میں دکھائی دینے والے اکثر پرندوں نے پاکھال سینکچری کو ان کا گھر بنالیا ہے اور برڈواچرس ان کی جانب متوجہ ہورہے ہیں ۔ پرندوں کی آمد سے بہت خوشی ہوتی ہے ۔ نقل مقام کر کے آنے والے یہ پرندے پاکھال جھیل میں تین مہینوں تک رہیں گے ۔ اور اس کے بعد وہ ان کے اصل مقامات کو واپس ہوجائیں گے ۔ وہ گرما میں شمالی ہند سے نقل مقام کر کے پاکھال جھیل آتے ہیں اس جھیل میں مچھلیوں کے شکار ، ماہی گیری پر امتناع ہے اور اطراف کے دیہاتوں کے لوگوں میں یہ بیداری پیدا کی جارہی ہے کہ نقل مقام کر کے آنے والے پرندے ہزاروں کلو میٹر پرواز کرتے ہیں ۔ رمیش نے کہا کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے مسلسل چوکسی رکھی جارہی ہے اور ان پرندوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ پاکھال جھیل میں برڈواچرس کے ساتھ ایک برڈواک کا بھی منصوبہ ہے ۔۔