چہار شنبہ کو تاریخی مکہ مسجد میں نماز جنازہ و احاطہ مسجد میں تدفین ، عوام کے دیدار کیلئے چومحلہ پیالس میں رکھا جائے گا – حکومت تلنگانہ کی جانب سے مکمل سرکاری اعزاز کا اعلان ، چیف منسٹر کا اظہار تعزیت
حیدرآباد:/15جنوری (سیاست نیوز) :شہزادہ رستم دوراں ‘ ارسطو زماں‘ مظفرالممالک نظام الملک آصف جاہ ثامن نواب میر برکت علی خان والاشان مکرم جاہ بہادر جانشین آصف سابع نواب میر عثمان علی خان بہادر و فرزند نواب میر حمایت علی خان اعظم جاہ بہادر کا استنبول (ترکیہ) میں گذشتہ شب ہندوستانی وقت کے مطابق 10:30بجے انتقال ہوگیا۔ خانوادۂ آصفیہ کے مطابق نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کی وصیت کے مطابق ان کے جسد خاکی کو شہر حیدرآباد لایا جائے گا اور تاریخی مکہ مسجد کے صحن میں واقع آصف جاہی سلاطین کے مقبرہ میں تدفین عمل میں آئے گی۔ان کی عمر 89 برس تھی اور وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے ۔ان کی پیدائش فرانس کے شہر نیس میں 1933 ء میں ہوئی تھی ۔مکرم جاہ بہادر کے سانحۂ ارتحال کی اطلاع کے ساتھ ہی شہر کے علاوہ ریاست حیدرآباد کے علاقوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی کیونکہ نواب مکرم جاہ بہادر آصف جاہی حکمرانوں میں آخری حکمراں تھے جن کی آصف سابع نے رسم جانشینی انجام دیتے ہوئے انہیں آصف ثامن کی حیثیت سے اپنا جانشین مقرر کیا تھا اور حکومت ہند نے نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ کو آخری فرماں روان حیدرآباد کے طور پر تسلیم بھی کیا تھا۔ اس طرح ریاست دکن حیدرآباد کے آخری فرما رواں اور سلطنت عثمانیہ (ترکیہ ) کے آخری خلیفہ سلطان عبدلمجید ثانی کے نواسہ نے اپنے ننھیالی ملک میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ مکرم جاہ بہادر سلطنت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالمجید ثانی کی دختر شہزادی درشہوار دردانہ بیگم کے فرزند تھے۔ ریاست دکن حیدرآباد میں خانوادہ ٔ آصفیہ کی نگرانی میں چلائے جانے والے نظام ٹرسٹ کے علاوہ مکرم جاہ ٹرسٹ فار ایجوکیشن اینڈ لرننگ کے تاحیات صدرنشین رہے ۔حکومت تلنگانہ نے مکرم جاہ بہادر کی تجہیز و تکفین کو مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیف منسٹرکے چندر شیکھر راؤ نے چیف سیکریٹری تلنگانہ محترمہ شانتی کماری کو ہدایت دی کہ وہ اس کی نگرانی کریں۔ چیف منسٹر نے اپنے تعزیتی پیام میں مکرم جاہ اور سلاطین آصفیہ کی شعبہ طب وتعلیم میں خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ چیف منسٹر کے دفتر سے مشیر برائے اقلیتی امور جناب عبدالقیوم خان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مکرم جاہ بہادر کی تجہیز و تکفین کے سلسلہ میں تمام امور کی راست نگرانی کے علاوہ میت کو حیدرآباد لانے اور آخری دیدار صلواۃ الجنازہ وتدفین کے امور کی تکمیل میں خانوادۂ آصفیہ کے ذمہ داروں کی مدد کریں اور ان کی ریاستی حکومت کی جانب سے اعانت کو یقینی بنائیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے مکرم جاہ کے افراد خاندان سے اظہار تعزیت کیا۔ ذرائع کے مطابق نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کے جسد خاکی کو منگل کوحیدرآباد لانے کے بعد چومحلہ پیالس خلوت مبارک میں آخری دیدار کے لئے رکھا جائے گا اور نماز جنازہ تاریخی مکہ مسجد میں ہی ادا کی جائے گی۔بتایاجاتا ہے کہ 17 جنوری کو جسد خاکی حیدرآباد پہنچنے کے بعد 18جنوری بروز چہارشنبہ انہیں عوام کے دیدار کے لئے چومحلہ پیالس میں رکھا جائے گا اور اسی دن احاطۂ مکہ مسجد میں واقع سلاطین آصفیہ کے مقبروں میں آصف جاہ ششم نواب میر محبوب علی خان ؒ کے پہلو میں انہیں سپرد لحد کیا جائے گا۔مرحوم نے جن خواتین سے نکاح کیا تھاان میں ان کی مطلقہ شہزادی اسریٰ با حیات ہیں جو کہ ان کی جائیدادوں ‘ اداروں کے علاوہ دیگر امور کی جی پی اے ہیں ۔اس کے علاوہ مختلف ازواج سے جملہ 7 فرزندان و دختران موجود ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پیر کو اے کے خان اور اعلیٰ پولیس اور دیگر سرکاری عہدیداروں کی ٹیم چو محلہ پیالیس خلوت پہنچ کر آخری دیدار کیلئے انتظامات کا معائنہ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ منگل کی شام کو نواب میر برکت علی خاں کے جسد خاکی کو استنبول ترکی سے بذریعہ چارٹرڈ فلائیٹ حیدرآباد لایا جائے گا اور وہاں سے چو محلہ پیالیس خلوت منتقل کیا جائے گا۔ ٹیم سیکوریٹی انتظامات اور دیدار کیلئے پہنچنے والے وی آئی پیز کی فہرست کے مطابق انتظامات کرے گی۔