کلکتہ ۔ مغربی بنگال میں اسکول اور کالج کے کھولنے کو لے کر کلکتہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر ہونے اور سوشل میڈیا پر مہم چلنے کے بعد ریاستی محکمہ تعلیم نے کہا ہے کہ حکومت ایک بار پھر اسکول اور کالج کھولنے پر غور کررہی ہے ۔چیف سیکریٹری کو خط لکھ کر ماہرین کمیٹی سے رائے طلب کی گئی ہے ۔کل ہی چیف سیکریٹری کو خط لکھا گیا ہے ۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر نویں سے بارہویں جماعت تک اسکول کھولنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ماہرین کی کمیٹی محکمہ تعلیم کی تجویز پر غور کرے گی۔ ساتھ ہی طلباء کے صحت کے مسائل پر محکمہ صحت کی رائے لی جائے گی۔
حکومت نے اسکول کھولنے کے معاملے پر متعلقہ محکموں سے بات چیت شروع کردی ہے ۔ مہاراشٹر اور ممبئی کے تمام تعلیمی ادارے اگلے پیر سے دوبارہ کھل جائیں گے ۔ اس کے بعد ہی مغربی بنگال میں تعلیمی ادارے کھولنے کے مطالبات ہونے لگے تھے ۔والدین بھی اسکول کھولنے کے مطالبے کرنے لگے ہیں۔اسکول کھولنے کو لے کر کلکتہ ہائی کورٹ میں بھی عرضی دائر کی گئی ہے ۔کل اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے کہا تھا کہ ریاست میں جلسے ، جلوس اور دیگر پروگراموں کی اجازت ہے مگر اسکول بند ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقے میں آباد غریب افراد پریشان ہیں۔ایک پوری نسل جاہل ہورہی ہے ۔