Monday , December 9 2019

نیتی آیوگ کی میٹنگ میں نتیش کمار نے ریاستی اسکیمات کے متعلق بات کی

ان کی تجویز جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان کشیدگی کا عکاسی کرتی نظر ائی

نئی دہلی۔ چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے مانگ کی مذکورہ مرکز تمام پر روک لگادی جو ”مرکزی اسپانسر“ اسیکمات اور ”مرکزی شعبہ“ میں منتقل اسکیموں کو اپنے ذاتی فنڈس سے کام کیاہے‘ اور ریاستوں کو اپنے اسکیموں کو روبعمل لانے کی منظوری دی جو ان کی وسائل اور ترجیحات پر مشتمل ہیں۔

نیتی آیوگ کے اجلاس جس کی نگرانی وزیراعظم نریندر مودی نے کی تھی میں ان کی تجویز کے ساتھ بہار کو خصوصی درجہ فراہم کرنے کی مانگ جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان کشیدگی کا عکاسی کرتی نظر ائی۔

نتیش نے یہ وضاحت کی کہ ریاستی حکوت کو مرکزی اسکیموں میں تعاون کے لئے دباؤ بناگیا ہے جبکہ وہ ان کی ترجیحات کو پورا نہیں کررہی ہیں۔

لہذا اہوں نے کہاکہ مرکز کو چاہئے کہ وہ ”مرکزی شعبہ کے تحت وہ اس کی ترجیحات پوری کرنے والی اسکیموں کا نفاذ عمل میں لائی اور ریاستی حکومت کو ریاستوں کوچاہئے کہ وہ اپنے وسائل اورترجیحات کی بنیاد پر اسکیمات نافد کریں“۔

دیگر چیف منسٹروں اور مرکزی وزرا کے خطاب سے قبل نتیش نے فینانس کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر مرکز کو 32سے42فیصد ریاستی ٹیکس کے بہاؤ کا استعمال کا الزام عائد کیاہے‘ جو کہ ریاستوں کے لئے مختص بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کے طور پر ہے۔

انہوں نے اس بات کا اشارہ کیاکہ مرکز کی جانب سے اسپونسر اسیکمات کے فنڈس کا بوجھ سابق میں 75سے 90فیصد کے مقابلہ میں 60ہے‘ یہاں تک کہ بعض اسکیموں میں یہ پچاس فیصد بھی ہوگیاہے۔ نتیش نے بحث کرتے ہوئے کہاکہ ”بہار نے مرکزکی اسپانسر اسکیمار پر اپنے ذاتی وسائل سے 2016-16میں 4500کروڑ‘ 2016-17میں 4900کروڑ‘سال2017-18میں 15,335کروڑ اور 2018-19میں 21,396کروڑ لگائے ہیں‘اس طرح اپنے ذاتی ترجیجات پر مشتمل اسکیموں کے لئے کم فنڈس فراہم کیاگیاہے۔

ایک ریاست کو مرکز کی اسپانسر اسکیموں میں حصہ لینے کا پابندکیاجارہا ہے جبکہ وہ ریاست کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں“۔

نتیش نے مانگ کی کہ مرکزکی اسپانسر اسکیمات کو بند کیاجائے‘ اور جی ایس ٹی کے اعلی بازادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ خانگی سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے“۔

جے ڈی یو کے سینئر لیڈران نے کہاکہ نتیش کا یہی اصلی موضوع ہے جس کی وجہہ سے انہو ں نے این ڈی اے کو چھوڑ کر 2015کے اسمبلی الیکشن میں راشٹرایہ جنتا دل اور کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملایاتھا

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT