متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ کا سسٹم وضع کرنے کی ہدایت۔ سی جے پی نے 5ستمبر کا مارچ ملتوی کیا
نئی دہلی۔ یکم؍ ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ سے جڑے احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز کو منسوخ کرنے اور امتحان کے تنازعہ کے بعد خودکشی کرنے والے طلباء کے خاندانوں کو معاوضہ دینے کا نظام تین مہینے کے اندروضع کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ عدالت کی اس ہدایت کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے دہلی میں آئندہ 5 ستمبر کو مجوزہ اپنا مارچ واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ سپریم کورٹ نے منگل کے روز 20 سے 25 جولائی کے درمیان ہوئے احتجاجی مظاہروں کے وقت درج فوجداری معاملات کو ختم کرنے کے ساتھ یہ بھی ہدایت دی کہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ان واقعات سے متعلق ایف آئی آرز پر آگے کارروائی نہ کی جائے ۔ ان میں ایسے معاملے شامل نہیں ہیں جنہیں عدالت نے استثنیٰ مانا ہے ۔ عدالت کے فیصلے کے بعد سی جے پی کے چیف ترجمان سورو داس نے بتایا کہ تنظیم نے مارچ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مثبت یقین دہانیوں اور اس عدالت کے ذریعہ پاس کیے گئے حکم کو دیکھتے ہوئے سی جے پی پانچ ستمبر کے مارچ کی کال کو واپس لیتی ہے ۔ قابلِ ذکر ہے کہ سی جے پی نے حکومت پر مظاہرین کے خلاف مقدمات واپس لینے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کی یقین دہانیوں کو پورا نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی یہ ہدایت مرکز نیز بہار، آسام، مغربی بنگال اور مہاراشٹر کی طرف سے دائر ان عرضیوں کے بعد آئی ہے جن میں مقدمات کو بند کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔ مرکز اور ریاستوں نے بنچ کو یقین دہانی کرائی کہ طے شدہ احتجاج سے جڑے مقدمات پہلے کی گئی عہد بستگی کے مطابق واپس لیے جائیں گے ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ بھی ہدایت دی کہ 20سے 26جولائی کے درمیان کے واقعات کے سلسلے میں کوئی نئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے ۔ تاہم، یہ چھوٹ ان جرائم پر لاگو نہیں ہوگی جنہیں عدالت نے جانچ کے لیے خاص طور پر اجازت دی ہے ۔ دہلی پولیس کو اپنی عرضی میں شامل ان 2,873 لوگوں کے خلاف الگ سے کارروائی آگے بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے جن پر جسمانی چوٹ پہنچانے یا جائداد کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے مقدمات کا سامنا کر رہے لوگ مناسب قانونی راستے اختیار کرنے کے حقدار ہوں گے ۔ داس نے کہا کہ چہرہ پہچاننے والی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر دہلی پولیس کے اس خدشے کے بارے میں کہ احتجاجی مقام پر تقریباً 2,800 مبینہ بدنامِ زمانہ جرائم پیشہ افراد موجود تھے ، ہم نے دلیل دی کہ اگر یہ 2,800 بدنامِ زمانہ جرائم پیشہ افراد واقعی وہاں موجود تھے ، تو پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ معاشرے میں کھلے عام کیوں گھوم رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم کو اصل جرائم سے متعلق جانچ سے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ داس نے کہا کہ اگر انہوں نے احتجاجی مقام پر عصمت دری، قتل یا دیگر سنگین جرائم جیسے کوئی گھناؤنے جرائم کیے ہیں، تو ان پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے ، جانچ ہونی چاہیے اور انہیں جیل بھیجا جانا چاہیے ۔