Wednesday , September 30 2020

نیپال کے بعد مودی حکومت کو پاکستان کاجھٹکہ، جموں و کشمیر نقشہ میں شامل

= آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے ایک سال پر عمران خان حکومت کا ہندوستان پر تیکھا وار
= کشمیر تنازعہ کی یکسوئی اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں سے ہی ممکن
= کشمیری عوام کیلئے پاکستان ہمہ وقت تیار، ملٹری کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح: عمران

اسلام آباد : ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت کے دوران ہندوستان کو تمام پڑوسی ممالک یکے بعد دیگر کمتر سمجھنے لگے ہیں اور اسے طرح طرح سے جھٹکے دے رہے ہیں۔ تازہ جھٹکہ پاکستان نے دیا ، جب وزیراعظم عمران خان نے منگل کو پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ پیش کیا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے علاقہ پاکستان کا حصہ ہیں۔ چھوٹی بڑی سرحدوں اور جزیروں کو ملائیں تو ہندوستان کے 9 پڑوسی ممالک ہیں۔ پاکستان ، بنگلہ دیش ، افغانستان ، چین ، نیپال ، میانمار ، بھوٹان ، سری لنکا اور مالدیپ۔ موجودہ طور پر کسی بھی پڑوسی کے ساتھ مودی حکومت کے ہندوستان کے تعلقات خوشگوار نہیں کہہ جاسکتے۔ چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ وقفہ وقفہ سے ابھرتا رہتا ہے ۔ حال ہی میں نیپال نے کالا پانی اور بعض دیگر علاقوں کو اپنے سیاسی نقشہ میں شامل کرتے ہوئے ہندوستان کو زک پہنچائی ۔ صدیوں سے کالا پانی کو ہندوستانی علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اب نیپال کے دعوے نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر نئے سوال اٹھادیئے ہیں۔ ہندوستانی دستور کے متنازعہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A کی تنسیخ کے پہلے سال کی تکمیل کے موقع پر عمران خان نے مودی حکومت کے لئے نئی مصیبت کھڑی کرتے ہوئے اپنے ملک کا نیا سیاسی نقشہ جاری کیا جس میں جموں و کشمیر کو پاکستان کا بتایا گیا ہے ۔ عمران نے نئے سیاسی نقشہ کو اقوام متحدہ میں بھی پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران کی کابینہ نے نئے نقشہ کو منظوری دی جس میں پورے جموں و کشمیر کو پاکستان کے ساتھ مربوط دکھایا گیا ہے ۔ جموں و کشمیر کو ہندوستان کا غیر قانونی طور پر مقبوضہ و متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے پاکستان نے کہا ہے کہ قطعی موقف کا فیصلہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مطابقت میں کیا جائے گا ۔ عمران نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا نہایت اہم دن ہے۔ وہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کے بعد نیوز کانفرنس سے مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سارے کشمیر خطہ کو جس میں ہندوستان کا غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر شامل ہے، اپنے سیاسی نقشہ کا حصہ بنایا ہے ۔ عمران نے کہا کہ پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ ساری قوم کے ساتھ ساتھ کشمیر کے عوام کی امنگوں کے مطابق ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے نقشہ کو ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے ۔ یہ نقشہ ہندوستانی حکومت کی گزشتہ سال 5 اگست کو کی گئی غیر قانونی حرکت کی مخالفت بھی کرتا ہے۔ عمران نے کہا کہ کشمیر تنازعہ کی یکسوئی صرف یو این سیکوریٹی کونسل قراردادوں میں ہی مضمر ہیں۔ پاکستان کشمیر کے عوام کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ تاہم اس تنازعہ کی یکسوئی فوجی نہیں بلکہ سیاسی وسائل کے ذریعہ ہی کی جاسکتی ہے ۔

پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ ’مضحکہ خیز دعویٰ‘ ، ہندوستان کا ردعمل
اسلام آباد / نئی دہلی: پاکستان نے منگل کو اشتعال انگیز اقدام میں اپنے نئے سیاسی نقشہ کو پیش کرتے ہوئے سارے جموں و کشمیر اور گجرات کے کچھ حصہ کو اپنے علاقوں کے طور پر ظاہر کیا ہے جس پر ہندوستان شدید برہم ہے اور اس نے اسے مضحکہ خیز دعویٰ قرار دیتے ہوئے خارج کردیا کہ یہ نہ تو قانونی طور پر کارکرد ہے اور نہ ہی اسے بین الاقوامی اعتبار حاصل ہے ۔ نئی دہلی میں وزارت امور خارجہ نے مختصر بیان جاری کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا کہ ہم نے پاکستان کا نام نہاد سیاسی نقشہ دیکھا ہے جو وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا ۔ یہ سیاسی لغویت کا عمل ہے اور ہندوستانی ریاست گجرات اور ہمارے مرکزی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ کے خطہ کو اپنے علاقوں کے طور پر ظاہر کرتا ہے جو ناقابل قبول دعویٰ ہے۔ اس مضحکہ خیز دعویٰ کو کوئی بھی قبول نہیں کرے گا۔ درحقیقت اس نئی سرگرمی سے پاکستان کے حقیقی ارادوں کی توثیق ہوتی ہے جس کی تکمیل کیلئے وہ سرحد پار دہشت گردی کو ہوا دیتا رہتا ہے ۔ نئے نقشہ میں پاکستان کی سرحد ہندوستان کے ساتھ اس طرح ظاہر کی گئی ہے کہ پورا کشمیر اُس کا علاقہ بتایا گیا۔ تاہم کشمیر کا کچھ حصہ اور چین کے ساتھ لداخ سرحد کو نئے نقشہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو درۂ کراکورم تک وسعت دی گئی ہے اور صاف طور پر ظاہر کیا گیا ہے کہ سیاچن پاکستان کا حصہ ہے ۔ ایل او سی کو سرخ شکستہ لکیر کے ساتھ بتایا گیا۔ نقشہ میں ایک اور تبدیلی سرکریک کے مشرقی کنارہ کے پاس بین ا لاقوامی سرحد پر دکھائی گئی جو قبل ازیں مغربی کنارہ سے مربوط تھی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT