وائیٹ پیپر گمراہ کن، ضمانتوں پر عمل آوری سے بچنے کی کوشش

   

ہریش راؤ کا الزام، سابق حکومت کو نشانہ بنانے سے تلنگانہ کا نقصان، اسمبلی میں وائیٹ پیپر پر مباحث
حیدرآباد۔/20 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) بی آر ایس نے حکومت کی جانب سے ریاست کی معاشی صورتحال پر پیش کردہ وائیٹ پیپر کو غلط معلومات اور گمراہ کن اعداد و شمار کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ اسمبلی میں وائیٹ پر مباحث کا آغاز کرتے ہوئے بی آر ایس رکن ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں اور چھ ضمانتوں پر عمل آوری سے بچنے کی راہ تلاش کررہی ہے۔ گمراہ کن اعداد و شمار کے ذریعہ سابق بی آر ایس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ ہریش راؤ نے تقریباً دو گھنٹے تک بحث جاری رکھتے ہوئے ریاست کی آمدنی اور قرض کے بارے میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریاست کے تمام اہم شعبہ جات میں نمایاں ترقی کے ذریعہ تلنگانہ کو ملک کی نمبرون ریاست بنادیا۔ انہوں نے بھاری قرض کے ذریعہ معاشی بحران کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ کورونا وباء کے نتیجہ میں معیشت کو نقصان اور مرکز کی جانب سے فنڈز کی اجرائی میں ناانصافی کے رویہ کے باوجود فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر کامیابی سے عمل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگی میں خوشحالی کا سہرا کے سی آر حکومت کے سرجاتا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ کے ساتھ روا ناانصافیوں کے خلاف علحدہ ریاست کی تحریک شروع ہوئی اور نئی ریاست میں دس سال تک ترقی و خوشحالی کا دور رہا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے عوام نے اقتدار عطا کیا۔ تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور وعدوں کی تکمیل کے بجائے کانگریس حکومت وائیٹ پیپر کے ذریعہ گذشتہ حکومت کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تاکہ سیاسی فائدہ حاصل ہو۔ ہریش راؤ نے گذشتہ دس برسوں میں کے سی آر حکومت کے کارناموں کی تفصیل بیان کی اور کہا کہ ہر شعبہ میں تلنگانہ ملک کی مثالی ریاست بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت کو بدنام کرنا اور مخالفین کو نشانہ بنانا وائیٹ پیپر کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان، کرناٹک اور دیگر کانگریس زیر اقتدار ریاستوں سے زیادہ بجٹ تلنگانہ میں خرچ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے فنڈز کی عدم اجرائی کے ذریعہ تلنگانہ کو اس کے جائز حق سے محروم رکھا ہے۔ مرکز کی ناانصافی کے باوجود کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ مرکز نے ایک لاکھ کروڑ تک تلنگانہ سے ناانصافی کی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے تلنگانہ کو معاشی بحران کا شکار ظاہر کرتے ہوئے مستقبل سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ حکومت کا یہی رویہ رہا تو ریاست میں سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور روزگار کے مواقع کم ہوں گے۔ انہوں نے کانگریس حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپوزیشن پر تنقیدوں کے بجائے وسائل میں اضافہ کے ذریعہ وعدوں کی تکمیل پر توجہ دیں اور تعمیری اپوزیشن کے طور پر بی آر ایس مکمل تعاون کرے گی۔ر