ججس کی تعداد بڑھ کر 28 ہوگئی، سپریم کورٹ کے سفارش کردہ ناموں میں صفی اللہ بیگ کو منظوری باقی
حیدرآباد ۔4 ۔اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل سی ایچ وجئے بھاسکر ریڈی نے آج ہائی کورٹ جج کی حیثیت سے حلف لیا۔ سپریم کورٹ کی کالجیم نے 2 فروری کو وجئے بھاسکر ریڈی کے نام کی سفارش کی تھی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے نام کی منظوری دے کر احکامات جاری کئے ۔ چیف جسٹس اجل بھویاں نے آج وجئے بھاسکر ریڈی کو حلف دلایا۔ ہائیکورٹ میں ججس کی تعداد 28 ہوچکی ہے۔ وجئے بھاسکر ریڈی کا جنم 28 جون 1968 کو دوباک کے ایک زرعی خاندان میں ہوا۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے بی ایس سی اور ایل ایل بی کی تکمیل کی اور 31 ڈسمبر 1992 ء کو وکیل کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کیا۔ وہ جسٹس وی وی ایس راؤ کے آفس میں جونیئر کی حیثیت سے شریک ہوئے اور 1999 ء میں انہیں این آئی آر ڈی اور آندھراپردیش اسمال اسکیل انڈسٹریز ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا اسٹانڈنگ کونسل مقرر کیا گیا۔ 2014 ء سے وہ ریونیو ڈپارٹمنٹ کے گورنمنٹ پلیڈر کی حیثیت سے برسر خدمت تھے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کالجیم میں فروری 2022 ء کو تلنگانہ ہائی کورٹ کے لئے 12 ججس کے ناموں کی سفارش کی تھی لیکن مرکزی حکومت نے وجئے بھاسکر ریڈی اور مرزا صفی اللہ بیگ کے ناموں کو التواء میں رکھتے ہوئے 10 ناموں کی منظوری دی تھی۔ جن دو ناموں کو معرض التواء میں رکھا گیا ، ان میں سے وجئے بھاسکر ریڈی کے نام کو منظوری حاصل ہوچکی ہے۔ مرزا صفی اللہ بیگ کے نام کو عمر کم ہونے کی بنیاد پر مرکز نے منظوری سے روک دیا تھا۔ر