وزیر مال سرینواس ریڈی نے نادر گل اراضی معاملہ میں افراد خاندان کے ملوث ہونے کی تردیدکی

   

حصہ داری نہ ملنے پر الزام تراشی ،سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا خیرمقدم
حیدرآباد ۔8 ۔ اپریل (سیاست نیوز) وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے نادرگل اراضی معاملہ میں بی آر ایس قائدین کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ بی آر ایس لیڈر ہریش راؤ اراضی میں حصہ داری نہ ملنے سے برہم ہوکر الزام تراشی پر اتر آئے ہیں۔ ریاستی وزراء پونم پربھاکر ، ڈی انوسویا سیتکا ، ارکان پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی ، انیل کمار یادو اور ارکان اسمبلی کے ہمراہ سکریٹریٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سرینواس ریڈی نے کہا کہ سروے نمبر 613 کے تحت 2014 میں بی آر ایس حکومت نے تین خانگی اداروں کو رجسٹریشن کے ذریعہ اراضی الاٹ کیا تھا۔ 2016 میں اراضیات کا میوٹیشن کیا گیا تھا۔ 2014 اور 2016 میں اراضی رجسٹریشن سے موجودہ حکومت کا کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ جس اراضی کے بارے میں الزام تراشی کر رہے ہیں ، وہاں 2022 میں تعمیری کاموں کا آغاز ہوا، اس وقت بی آر ایس کی حکومت تھی۔ اراضی پر نالے کی تبدیلی کی عدم اجازت پر خانگی کمپنیاں 2022 میں سپریم کورٹ سے رجوع ہوئیں۔ بی آر ایس حکومت کی جانب سے جوابی حلفنامہ داخل نہیں کیا گیا۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد حکومت نے سرکاری اراضی کا دعویٰ کرتے ہوئے عدالت میں حلفنامہ داخل کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں حصہ داری حاصل کرتے ہوئے اراضی الاٹ کرنے والے آج الزام تراشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نادرگل اراضی میں حصہ داری نہ ملنے پر ہریش راؤ نے اس مسئلہ پر تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہریش راؤ جس کمپنی کا حوالہ دے رہے ہیں ، اس میں میرے افراد خاندان نہیں ہیں۔ سرینواس ریڈی نے چیلنج کیا کہ اس بات کو ثابت کیا جائے کہ کمپنی میں ان کے افراد خاندان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وٹی ناگولاپلی کی اراضیات کے بارے میں ہریش راؤ کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 2014 سے کانکنی کے تمام معاملات کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا ہے ۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ہی ہریش راؤ بے قاعدگیوں کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ سی بی سی آئی ڈی تحقیقات میں حقائق منظر عام پر آئیں گے اور ہریش راؤ کے الزامات غلط ثابت ہوں گے۔1/K/m/b