صدر نشین عظمت اللہ حسینی اور سی ای او محمد اسد اللہ کی خاموشی معنیٰ خیز
حیدرآباد۔25۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے شعبہ قانون کی کارکردگی پر اختیار کردہ بورڈ کے ذمہ داروں بالخصوص صدرنشین بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی اور چیف اکزیکٹیو آفیسر جناب محمد اسداللہ کی خاموشی پر اب سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں اور کہاجارہاہے کہ اسٹینڈنگ کونسل کے علاوہ بورڈ کے شعبہ لیگل میں خدمات انجام دینے والے ماہرین کی خدمات سے استفادہ اور انہیں لاکھوں روپئے کی تنخواہوں کی اجرائی کے باوجود بورڈ کے مقدمات میں عدم پیروی نے سب کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے۔ تلنگانہ وقف بور ڈ کے شعبہ قانون میں خدمات انجام دینے والے افراد جو وقف اسٹینڈنگ کونسل کو بورڈ کی جانب سے داخل کئے جانے والے جوابات تیار کرتے ہوئے روانہ کرتے ہیں ان کی کارکردگی پر ظاہر کئے جانے والے شبہات اور ان پر عائد کئے جانے والے الزامات کے معاملہ میں اختیار کردہ خاموشی ذمہ داران بورڈ پر انگلیاں اٹھانے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں مسلسل مقدمات میں شکست کے باوجود وقف بورڈ صدرنشین اور سی ای اونے تاحال ان کے تحت موجود شعبہ قانون کی کارکردگی کا جائزہ نہیں لیا بلکہ ان مقدمات میں ہونے والی شکست پر موصول ہونے والی رپورٹ پر اکتفاء کرنے لگے ہیں۔صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی سے اس سلسلہ میں دریافت کرنے پر کہا جارہا ہے کہ وہ ان امور کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بورڈ میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار بالواسطہ طور پر تلنگانہ ہائی کورٹ کے مخصوص بنچ پر وقف جائیدادوں سے متعلق گزٹ کو کالعدم قرار دیئے جانے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسٹینڈنگ کونسل وقف بورڈ جن کی تعداد 16 سے زائد ہے اس کے باوجود ہونے والی ناکامیوں کے لئے بورڈ کے عہدیداروں اور شعبہ قانون کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں جو ہدایات موصول ہوتی ہیں ان کے مطابق وہ عدالت میں پیروی کرتے ہیں اور اگر کسی مقدمہ کے متعلق اطلاع ہی فراہم نہیں کی جاتی تو ایسی صورت میں وہ مقدمہ میں پیروی کرنے کے متحمل نہیں ہوتے ۔ علاوہ ازیں اسٹینڈنگ کونسل جو الزام عائد کر رہے ہیں ان کے مطابق جوابی حلف نامہ کے ادخال کے علاوہ وکالتوں کی اجرائی میں کی جانے والی تاخیر کے سبب کئی مقدمات میں وہ پیروی نہیں پارہے ہیں۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ موجودہ 16 اسٹنڈنگ کونسل میں محض چند اسٹینڈنگ کونسل ایسے ہیں جو کہ وقف بورڈ کی جانب سے دیئے جانے والے مقدمات میں فوری پیروی کے لئے آمادہ ہوتے ہیں لیکن کئی ایسے اسٹینڈنگ کونسل بھی ہیں جنہیں ان کی مرضی کے مقدمات نہ دیئے جانے کے سبب وہ پیروی سے انکار کردیتے ہیں۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ایک وکیل نے بتایا کہ وقف جائیدادوں کے گزٹ کو کالعدم قرار دینے کے لئے عدالت میں داخل کی جانے والی بیشتر درخواستیں تلنگانہ وقف بورڈ کے ہی ایک رکن کے دفتر میں خدمات انجام دینے والے وکلاء کی جانب سے دائر کی جاتی ہیں اور اس دفتر سے داخل کی جانے والی درخواستوں کے خلاف جو جواب تیار کئے جاتے ہیں وہ بھی مخالف وکیل کو مدد کرنے والے ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں وقف جائیدادوں سے متعلق ’’گزٹ‘‘ کالعدم قرار دیئے جا نے لگے ہیں۔3/m/b