وقف ترمیمی بل کے خلاف جمہوری طاقتوں کی متحدہ جدوجہد ضروری

   

آل انڈیا تنظیم انصاف کا دو روزہ قومی کونسل اجلاس، سید عزیز پاشاہ اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد ۔7۔ اکتوبر (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا اور آل انڈیا تنظیم انصاف کے صدر سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون کے ذریعہ ملک میں اوقافی جائیدادوں کے خلاف کی جارہی سازش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ۔ عزیز پاشاہ نے محبوب نگر میں آل انڈیا تنظیم انصاف کی دو روزہ قومی کونسل اجلاس سے خطاب کیا۔ اجلاس میں قومی سطح کے قائدین اور فنکاروں نے شرکت کی۔ سید عزیز پاشاہ نے اقلیتوں کو دستوری حقوق سے محروم کرنے کیلئے نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل کا مقصد ملک میں اوقافی جائیدادوں پر حکومت کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ بی جے پی اور مرکزی حکومت کو ملک میں اوقافی جائیدادیں کھٹک رہی ہیں۔ مجوزہ بل میں 43 ترمیمات کی جارہی ہیں جو دستور کے خلاف ملک میں تمام سیکولر اور جمہوری طاقتوں کو متحدہ طورپر بل کے خلاف جدوجہد کرنی چاہئے ۔ نئے بل کے ذریعہ وقف ٹریبونل کی اہمیت کو ختم کردیا جائے گا۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ ملک بھر میں مسلمانوں اور جمہوریت پسند طاقتوں کے احتجاج پر مرکز کو بل سے دستبرداری اختیار کرنی چاہئے ۔ صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن عبید اللہ کوتوال نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس نے انڈیا الائنس کے ذریعہ مودی حکومت کی فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا ہے۔ کانگریس پارٹی ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کی جدوجہد کرتی رہی ہے۔ آل انڈیا تنظیم انصاف کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر ایوب علی خاں ، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ایس شیروانی ، عرفان ، فاطمی اصلاح الدین ، ڈاکٹر شکیل رحمن ، منیر پٹیل ، محمد فیاض ، بی بال کشن اور سی پی آئی کے کئی قائدین نے خطاب کیا۔ کونسل کے اجلاس میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے قرارداد منظور کی گئی۔ تنظیم انصاف نے 18 ڈسمبر کو ملک بھر میں یوم اقلیتی حقوق کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ 1