راہول گاندھی، صدر کانگریس کھرگے اور پرینکا گاندھی کی شرکت متوقع، چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی اور ایس آئی آر پر نظرثانی کا مطالبہ
نئی دہلی، 30 اکتوبر(ایجنسیز)ملک میں انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اور مبینہ ووٹ چوری کے الزامات پر مرکزی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران کانگریس زیر قیادت انڈیا اتحاد یکم نومبر کو نئی دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں ایک بڑے احتجاجی جلسہ کا انعقاد عمل میں لانے کی تیاری کررہا ہے۔ ’’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس جلسہ کو اپوزیشن کی جانب سے انتخابی اصلاحات اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے مطالبہ پر ملک گیر تحریک کے اہم مرحلہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔کانگریس نے اس احتجاج میں ملکارجن کھڑگے، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن قائدین کی شرکت کی توقع ظاہر کی ہے۔ پارٹی نے ملک کی مختلف ریاستوں سے کارکنوں اور حامیوں کو دہلی پہنچانے کے لئے بڑے پیمانے پر انتظامات شروع کردیئے ہیں۔ کانگریس نے جلسہ میں تقریباً دس لاکھ افراد کی شرکت کا ہدف مقرر کیا ہے۔راہول گاندھی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریت، دستور اور ووٹ کے حق کے تحفظ کے لئے اس احتجاج میں حصہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے قاعدگیوں اور ووٹرس کے ناموں کے اخراج کے معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے ذریعہ بڑی تعداد میں رائے دہندگان کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کئے جانے کا خدشہ ہے، جس سے شہریوں کے حق رائے دہی پر اثر پڑسکتا ہے۔انڈیا اتحاد کی جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بھی مسلسل احتجاج کررہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، ایس آئی آر کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔ اپوزیشن نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے قاعدگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں کا موقف ہے کہ ووٹر لسٹوں کی تیاری اور نظرثانی کا عمل سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہئے اور کسی بھی اہل شہری کو اس کے حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے۔ دوسری طرف بی جے پی اور حکومت نے اپوزیشن کے ووٹ چوری کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔کانگریس قائدین پرینکا گاندھی اور کے سی وینوگوپال نے رام لیلا میدان پہنچ کر جلسہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ پولیس عہدیداروں نے بھی مقام کا دورہ کرتے ہوئے سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کا معائنہ کیا ہے۔سیاسی مبصرین کی نظر اب یکم نومبر کے جلسہ پر مرکوز ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل سے متعلق اپنے اعتراضات اور مطالبات کو مشترکہ طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گی۔ اس اجتماع سے انڈیا اتحاد کی باہمی ہم آہنگی اور انتخابی اصلاحات کے مسئلہ پر اس کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا بھی اندازہ ہوگا۔
رام لیلا میدان میں عوام کا غصہ نظر آئے گا: راہول
گیانیش کمار کیخلاف عوامی مواخذے کا پروگرام ملتوی،آج انعقاد
نئی دہلی، 30 اکتوبر (یواین آئی) انڈیا اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو ہونے والے عوامی مواخذے کے پروگرام کو راجدھانی میں شدید بارش کے باعث ملتوی کرتے ہوئے اب اسے ہفتہ، 31 اکتوبر کو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اتحاد کے رہنماؤں نے آج یہاں کہا کہ یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں مجوزہ انڈیا اتحاد کی عظیم الشان ریلی میں جمہوریت، آئین اور حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کا اتحاد اور عوام کا غصہ نظر آئے گا۔کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر مسٹر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کا پروگرام شروع ہونے سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں نے آج یہاں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام ملتوی کیے جانے کی اطلاع دی۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ بارش کے باعث پروگرام کل اسی وقت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ سینئر رہنماؤں کو بارش میں بیٹھنے کی وجہ سے پریشانی ہو۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ یکم نومبر کو تمام اپوزیشن جماعتیں رام لیلا میدان تک مارچ کریں گی۔ اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر تنظیموں اور عام لوگوں کا بھی خیرمقدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رام لیلا میدان میں لوگوں کی شرکت اور انہیں دہلی آنے سے روکنے کی کوششوں سے ملک کی صورت حال کا اندازہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے اور اڈانی، امبانی، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کو فائدہ پہنچانے کے لیے ان کے ووٹ چھینے جا رہے ہیں۔کانگریس رہنما نے کہا کہ یہ الگ الگ احتجاجی مظاہرے نہیں، بلکہ ایک مشترکہ تحریک ہے ۔ اپوزیشن آئین، ہندوستان کے تصور اور ہر ہندوستانی کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے متحد ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ لوگوں کو دہلی آنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ انڈیا اتحاد کے تمام رہنما اس لڑائی میں متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، طلبہ، نوجوانوں، مزدوروں اور گھریلو خواتین سمیت تمام لوگوں کو اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے ۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ سب مل کر یہ لڑائی جیتیں گے ۔سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ عوام سمجھ چکے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جس جیت کا دعویٰ کرتی ہے ، اس کے پیچھے انتخابی دھاندلی اور انتخابی انتظامات میں ہیرا پھیری ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے لے کر ووٹر فہرستوں تک میں گڑبڑ کی جا رہی ہے ۔ مسٹر یادو نے کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کے نتائج کے ذریعے اساتذہ اور گریجویٹ ووٹروں نے واضح کر دیا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی اصل صورت حال کیا ہے ۔