ویمنز ایشیا کپ میں ہندوستان کا آج پاکستان سے مقابلہ

   

دبئی، 4 ستمبر (آئی اے این ایس) ویمنز ایشیاکپ 2026 میں روایتی حریف ہندوستان اور پاکستان ہفتہ کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان یہ مقابلہ ٹورنمنٹ کے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے میچوں میں شامل ہے، جہاں ہندوستانکی نظریں اپنی برتری برقرار رکھنے پر ہوں گی، جبکہ پاکستان کے لیے یہ میچ سیمی فائنل کی دوڑ میں انتہائی اہم ہے۔ ہندوستان نے ٹورنمنٹ میں شاندار آغازکرتے ہوئے پہلے تھائی لینڈ اور پھر ہانگ کانگ چائنا کو شکست دی اور سیمی فائنل میں اپنی جگہ پہلے ہی یقینی بنا لی ہے۔ ہانگ کانگ کے خلاف 137 رنز کی بڑی فتح میں اسمرتی مندھانا نے 124 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر نہ صرف ٹیم کو بڑی کامیابی دلائی بلکہ خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی بیٹر بھی بن گئیں۔ تاہم پاکستان کے خلاف مقابلہ ہندوستان کے لیے محض ایک اور لیگ میچ نہیں ہوگا۔ روایتی حریف کے خلاف کامیابی جہاں ٹیم کے اعتماد میں اضافہ کرے گی، وہیں ٹیم سیمی فائنل سے قبل اپنی کچھ کمزوریوں کو بھی پرکھنا چاہے گی۔ خاص طور پر مڈل آرڈرکی کارکردگی ہندوستان کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ دبئی کی سست پچز پر اسوسی ایٹ ٹیموں کے خلاف بھی اس شعبے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس مقابلے میں سب سے زیادہ نگاہیں ایک بار پھر اسمرتی مندھانا پر ہوں گی۔ ہانگ کانگ کے خلاف 124 رنز کی تاریخی اننگز کے بعد مندھانا زبردست فارم میں ہیں اور پاکستان کے خلاف بھی ان سے بڑے اسکورکی توقع کی جا رہی ہے۔ رواں سال ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی انہوں نے پاکستان کے خلاف نصف سنچری بنا کر ٹیم کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ مندھانا کے ساتھ شفالی ورما بھی جارحانہ آغاز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس اوپننگ جوڑی کا تیز آغاز پاکستان کے لیے ابتدائی اوورز میں سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ ہندوستانی بولنگ بھی اس وقت مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ دیپتی شرما مسلسل وکٹیں حاصل کر رہی ہیں، جبکہ نندنی شرما اورکرانتی گاؤڈ نے بھی اہم مواقع پر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دبئی کی سست پچ پر اسپن اٹیک پاکستان کے بیٹرزکے لیے مشکل امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان نے تھائی لینڈ کے خلاف کامیابی سے ایشیا کپ مہم کا آغازکیا، لیکن اس کی بیٹنگ اب بھی سب سے بڑی کمزوری نظر آرہی ہے۔ تھائی لینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم نے پاور پلے میں ہی 25 رنز پر تین وکٹیں گنوا دی تھیں،