َلال قلعہ سے پرچم لہرانے والے ویڈیو پوسٹ کرنے پر این ائی اے نے پنجاب کے اداکار دیپ سندھو کے نام جاری کیا سمن

,

   

نئی دہلی۔ پنجاب کے اداکا ر دیپ سندھو جس کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این ائی اے) نے سکھ فار جسٹس سے رابطے کے معاملے میں پچھلے ہفتہ سمن جاری کیاتھا‘

منگل کے روز لال قلعہ میں داخل ہونے والے کسانوں کے گروپ اور 17ویں صدی کے عظیم تعمیری شاہکار پر پرچم لہرانے والوں میں شامل تھے‘

یہاں تک کے کسانوں کی جانب سے نکالی جانے والے ٹریکٹر ریالی مشتعل ہوگئی اور قومی درالحکومت کے مختلف حصوں میں تشدد برپا ہوگیاتھا۔

منگل کی دوپہر سینکڑوں کی تعداد میں کسان ٹریکٹروں‘ موٹر سیکلوں اور کاروں پر سوار ہوکر لال قلعہ میں ترنگا او رکسان یونینوں کے جھنڈوں کے ساتھ داخل ہوئے تھے

کسانوں نے اپنے پرچم لہرائے
سکیورٹیدستوں اور پولیس جوانوں سے زیادہ تعداد میں موجود کسانوں نے تاریخی عمارت پر چڑھائی کرتے ہوئے وہاں پر اپنے پرچم لہرانے کاکام کیاہے۔

لال قلعہ کی فصیل سے پرچم لہرانے کے واقعہ کی سدھو نے فیس بک لائیو کیاتھا۔

ویڈیو میں سندھو پنجابی میں کہہ رہے ہیں ”ہم صرف نشان صاحب کا جھنڈا لال قلعہ پر لہرارہے ہیں تاکہ اپنے احتجاج کے جمہوری حق کو روبعمل لاسکیں“۔

پچھلے سال 15ڈسمبر کے روزسکھ فار جسٹس(ایس ایف جے) پر درج معاملے میں پچھلے ہفتہ این ائی اے نے سدھو کے نام سمن جاری کیاتھا


ایس کے ایم
یہاں تک کے سمیوکت کسان مورچہ(ایس کے ایم) نے بھی سدھو سے دوری اختیار کی ہے اور اس پرالزام لگایاہے کہ وہ لال قلعہ میں کسانوں کے قیادت کررہا تھا۔

مذکورہ ایس کے ایم نے کہاکہ پیرکے روز ایک اسٹیج پر نمودار ہوا تھا اور اس نے کسانوں کے احتجاج کو سبوتاج کرنے اور علیحدگی کو بڑھاوا دینے والے بھڑکاؤتقریر کی تھی۔گروداس پور کے رکن پارلیمنٹ اور بالی ووڈ کے اداکار سنی دیول کے قریبی رہے سدھو 2019کے لوک سبھا الیکشن کے دوران بی جے پی لیڈر کا الیکشن انچارج رہا ہے۔

پچھلے سال کسانوں کی تنظیموں نے بھی سدھو پر امتناع عائد کردیاتھا۔

منگل کے روز قومی درالحکومت کے مختلف حصوں میں پیش ائے تصادم میں کم سے کم 83پولیس جوان اور کسان زخمی ہوئے ہیں۔ایک کسان نے ائی ٹی او سنٹرل دہلی میں احتجاج کے دوران ٹریکٹر بے قابو ہوجانے کی وجہہ سے مارا گیاہے۔