امریکی ماہرین کا خیال
واشنگٹن۔ 7 اگست (ایجنسیز) امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف سیاسی تجزیہ کار رابرٹ پیپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث ایک خطرناک فوجی صورتحال میں پھنس چکے ہیں، جہاں ان کیلئے جنگ ختم کرنا بھی مشکل ہے اور اسے مزید وسعت دینا بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پروفیسر رابرٹ پیپ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر فضائی اور بحری حملوں سے ٹرمپ کو وقتی طور پر کچھ فوجی کامیابیاں ضرور حاصل ہوئی ہیں، تاہم جنگ میں براہِ راست مداخلت کے باوجود وہ اپنے بڑے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔رابرٹ پیپ کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں کمزور ہونے کے بجائے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔ موجودہ صورتحال امریکی صدر کیلئے ایک پیچیدہ عسکری اور سیاسی چیلنج بن چکی ہے۔امریکی ماہر کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس اب بنیادی طور پر دو ہی راستے باقی رہ گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں، جبکہ دوسرا راستہ جنگ کو مزید وسیع کرنا ہے۔رابرٹ پیپ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ٹرمپ کیلئے کوئی آسان تیسرا راستہ نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق اگر امریکہ مزید فوجی کارروائیوں کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں جنگ کے دائرے کے مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔پروفیسر رابرٹ پیپ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ فضائی اور بحری طاقت کے محدود نتائج سامنے آنے کے بعد امریکی صدر زمینی کارروائی کی طرف بڑھنے پر غور کر سکتے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ جے ڈی وینس کو امریکہ کا صدر بنانا چاہتے ہیں؟
اوول آفس میں عطیہ دہندگان کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے ٹرمپ کا اشارہ ، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ
واشنگٹن ۔ 7 اگست (ایجنسیز) ایک صحافتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تقریباً دو ہفتے قبل اوول آفس میں ایک خانگی اجلاس کے دوران بڑے عطیہ دہندگان کے ایک گروپ کو بتایا کہ وہ 2028ء کے انتخابات میں اپنے نائب، جے ڈی وینس کو امریکہ کا صدر بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اپنی جانشینی کیلئے وینس کی حمایت کرنے کی ان کی آمادگی کا اب تک کا سب سے مضبوط اشارہ ہے۔”واشنگٹن پوسٹ” کی رپورٹ میں اس اجلاس سے واقف دو افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ڈونرز سے ایک نجی اور غیر اعلانیہ ملاقات کے دوران کہا کہ آخر کار ہمیں جے ڈی کو منتخب کرنا ہو گا۔یہ نجی بیانات گزشتہ سال کے دوران ٹرمپ کے عوامی مؤقف سے متصادم ہیں کیونکہ وہ اپنے نائب جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان مقابلے کو کھلا رکھنے کے حریص رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سے زیادہ مواقع پر کہا ہے کہ دونوں ایک مضبوط انتخابی ٹیم بنا سکتے ہیں اور انہوں نے صدارت کیلئے اپنے پسندیدہ امیدوار کی شناخت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ڈونرز کے سامنے وینس کی اس تعریف کے باوجود وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کے آخر تک اپنے معاونین سے اپنے نائب اور اپنے وزیر خارجہ کے درمیان موازنے کے بارے میں رائے حاصل کرنا جاری رکھا ہے یہاں تک کہ صدارتی ہیلی کاپٹر “میرین ون” کے ایک سفر کے دوران بھی وہ اس حوالے سے مشورہ کرتے رہے تھے۔ امریکی صدر کے ایک مشیر ، جو ان کے بیانات سے براہ راست واقف ہیں، نے کہا کہ ٹرمپ نے اندرونی طور پر یہ یقین دہانی کر لی ہے کہ وینس ریپبلکن پارٹی کے اندر ان کے سیاسی وارث ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ ان کی امیدواری کا اعلان کرنے یا ان کی باضابطہ حمایت پیش کرنے کیلئے ابھی وقت قبل از وقت ہے۔ اس کے برعکس ٹرمپ کے چھ دیگر مشیروں اور اتحادیوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ نہیں مانتے کہ امریکی صدر نے اپنا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر مختلف لوگوں کو مختلف پیغامات دیتے ہیں اور بعد میں اپنا مؤقف بدل سکتے ہیں۔ ان مشیروں اور اتحادیوں کا یہ بھی ماننا تھا کہ ٹرمپ کسی بھی باضابطہ اعلان کو ملتوی کر دیں گے تاکہ اپنی مدت کے اختتام پر ایک ایسے صدر کے طور پر ظاہر ہونے سے بچ سکیں جو اپنا سیاسی اثر و رسوخ کھو دیتا ہے۔واضح رہے وینس خود بھی انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں اپنا مؤقف بتانے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ وہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ اس معاملے پر بات کریں گے۔
ساتھ ہی انہوں نے اس اعتماد کا اعادہ کیا کہ ٹرمپ ان کے کسی بھی فیصلے کی حمایت کریں گے۔ ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ کی جانشینی کا مقابلہ ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ متعدد ڈونرز، کارکنان اور پارٹی شخصیات وینس کے حامیوں اور روبیو کو ترجیح دینے والوں کے درمیان تقسیم ہو چکے ہیں۔ یہ توقعات کی جارہی ہیں کہ آنے والے مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج صدارتی دوڑ کی شکل پر اثر انداز ہوں گے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان انتخابات میں ریپبلکنز کی کارکردگی ایک فیصلہ کن عنصر ہو گی کیونکہ کوئی بھی مایوس کن نتائج دیگر حریفوں کو اس امیدوار کو چیلنج کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں جس کی ٹرمپ حمایت کرتے ہیں اور وینس یا روبیو کو پارٹی کے اندر ایسی تنقید کیلئے زیادہ حساس بنا سکتے ہیں جو خود ٹرمپ پر شاذ و نادر ہی کی جاتی ہے۔