ٹمریز میں نااہل اورغیر تعلیمیافتہ افراد کے تقرر سے کارکردگی متاثر

   

مختص بجٹ کے استعمال میں غفلت و لاپرواہی ، توجہ دہانی کے باوجود حکومت کی خاموشی معنی خیز

حیدرآباد۔24جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائی جانے والی سوسائیٹی تلنگانہ اقلیتی اقامتی ایجوکیشنل سوسائٹی (ٹمریز) کو گذشتہ 4برسوں کے دوران مجموعی طور پر 2ہزار275 کروڑ 59لاکھکا بجٹ جاری کیا ہے اور اس ادارہ نے اس مدت کے دوران 1ہزار682 کروڑ 8ہزار روپئے خرچ کئے ہیںلیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ادارہ کے صدر دفتر میں تقررات کے سلسلہ میں کوئی رہنمایانہ خطوط یا پالیسی موجود نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے مجموعی بجٹ کا بڑا حصہ ٹمریز کے لئے جاری کیا جا رہاہے اور ٹمریز میں ہونے والی بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں بالخصوص اہل عہدیداروں کے تقررات کے سلسلہ میں تفصیلات کے لئے داخل کی جانے والی قانون حق آگہی کی درخواستوں کا جواب دینے کے بجائے ان درخواستوں کے مبہم جواب دیئے جا رہے ہیں اور مزید استفسار پر کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس تقررات کے سلسلہ میں کوئی پالیسی تیار نہیں کی گئی ہے۔ریاستی حکومت کو ٹمریز کے ٹنڈرس اور تقررات کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی اور نااہل و غیر تعلیمیافتہ افراد کو اہم ترین ذمہ داریوں پر فائز کئے جانے کے سلسلہ تفصیلات سے واقف کروائے جانے کے باوجود ان کے عہدیداروں یا ملازمین کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی نہ کئے جانے سے یہ واضح ہونے لگا ہے کہ ٹمریز کے ٹنڈر حاصل کرنے والوں اور صدر دفتر میں خدمات انجام دینے والوں کو ریاستی حکومت میں شامل افراد کے علاوہ ادارہ کے نگران عہدیداروں کی بھر پور مدد حاصل ہے اسی لئے وہ ایسے افراد کے تقررات پر بھی مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جو ان عہدوں کے لئے اہل نہیں ہیں۔ ریاستی حکومت نے 2022-23 کے دوران ٹمریز کے لئے 774کروڑ40لاکھ کا بجٹ مختص کیا ہے اور اس میں 694 کروڑ 55لاکھ جاری کردیئے گئے ہیں اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے مطابق جاریہ سال کے دوران اب تک 501کروڑ 61لاکھ خرچ بھی کئے جاچکے ہیں۔ٹمریز کے صدر دفتر میں خدمات انجام دینے والے ملازمین اور ان کے تقررات کے سلسلہ میں اختیار کردہ اصول وضوابط کے سلسلہ میں تفصیلات کے حصول کے لئے داخل کی گئی درخواست پر ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرنے کے ساتھ بنیادی سوالات کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ قانون حق آگہی 2005کے جواب دینے کی صلاحیت تک اس ادارہ میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کے پاس موجود نہیں ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ خود ٹمریز میں مکمل جواب نہ دئیے جانے پر اپیلیٹ اتھاریٹی کو داخل کی گئی درخواست کے جواب میں دے دیا گیا ہے اور خود عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ ٹمریز کے دفتر میں تقررات کے سلسلہ میں کوئی واضح پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کسی مؤظف عہدیدار کی خدمات حاصل کی گئی ہیں بلکہ منظورہ ایجنسی کی جانب سے آؤٹ سورسنگ پر ان کی خدمات حاصل کی جار ہی ہیں۔ جناب ایس کیو مسعود نے بتایا کہ بغیر کسی منظورہ پالیسی کے ساتھ تقررات ایک مجرمانہ عمل ہے جس کے خلاف عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے سرکاری بجٹ کے بے دریغ استعمال اور تقررات میں کی جانے والی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے درخواست مفاد عامہ داخل کی جاسکتی ہے۔ انہو ںنے مزید بتایا کہ آرٹی آئی کے جواب میں جو مکتوب جاری کرتے ہوئے خود عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقہ سے تقررات کی راہ ہموار کئے ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے بجٹ کا بیشتر حصہ جس ادارہ کے لئے جاری کیا جا رہاہے اس ادارہ میں موجود بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کے متعلق انکشاف پر پولیس کے ذریعہ ہراسانی کے الزامات کی شکایات بھی موصول ہورہی ہیں لیکن اب جو جواب ٹمریز کی جانب سے دیا گیا ہے اس کے متعلق ماہرین قانون کا کہناہے کہ ہائی کورٹ میں درخواست مفاد عامہ کے تحت اور سرکاری بجٹ کے بے جا استعمال کے خلاف درخواست کے ادخال کے لئے یہ جواب کافی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے مالی سال 2022-23 کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے 1724 کروڑ 69لاکھ روپئے کی تخصیص کا فیصلہ کیا تھا جس میں 1513 کروڑ70لاکھ جاری کردیئے جانے کا دعویٰ کیا جا رہاہے اور ان 1513کروڑ میں 694 کروڑ 55لاکھ روپئے ٹمریز کے لئے جاری کئے گئے ہیں جو کہ بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں بالخصوص اقرباء پروری کے مرکزکے طور پر فروغ پانے لگا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اس ادارہ میںجاری بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں اور اقرباء پروری ونااہل و غیر قانونی تقررات پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ ٹمریز کے تحت چلائے جانے والے اسکولوں اور کالجس میں محض مسلم طلبہ کو داخلہ نہیں دیا جاتا بلکہ ذرائع کے مطابق 30 فیصد تک دیگر مذاہب و طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بھی داخلہ دیا جاتا ہے جو کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی رقم سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔م