سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل آوری حکام کیلئے چیالنج
حیدرآباد۔5۔ستمبر۔(سیاست نیوز) گنیش وسرجن فرقہ وارانہ صورتحال سے زیادہ قانو ن اور آستھا کے درمیان چیالنج کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ 9 ستمبر کو گنیش وسرجن کے سلسلہ میں ٹینک بنڈ میں پی او پی کی تیار کردہ گنیش کی مورتیوں کے وسرجن پر سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کئے گئے امتناع پر کس طرح سے عمل کیا جائے گا یہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباداور پولیس انتظامیہ کے لئے بڑا چیالنج بنا ہوا ہے اور اب تک بھی اس سلسلہ میں گنیش اتسو سمیتی کے علاوہ دیگر متعلقہ عہدیداروں کی جانب سے کوئی واضح عملی اقدامات کے سلسلہ میں جواب نہیں دیا جا رہا ہے بلکہ گنیش منڈپ آرگنائزرس کی جانب سے آستھا کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد عارضی تالابوں کی تعمیر کا حوالہ اور مٹی کی مورتیوں کی تقسیم کو بنیاد بناتے ہوئے اپنا دامن جھاڑنے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ گنیش وسرجن جلوس میں شامل سب سے بڑے خیریت آباد کے گنیش کو کہاں وسرجن کیا جائے گا اور بالاپور گنیش جو کہ پی او پی کا تیار کردہ ہے اس کا وسرجن کہا عمل میں لایا جائے گا یہ بھی اب تک واضح نہیں کیا جاسکا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق حسین ساگر میں 10 فیٹ سے زیادہ اونچی اور پی او پی کی تیارکردہ مورتیوں کو وسرجن نہ کرنے کی واضح ہدایت دی گئی ہے اور ان ہدایات کے پیش نظر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے شہر کے مختلف مقامات پر عارضی کنٹوں اور تالابوں کی تعمیر کے ذریعہ گنیش وسرجن کے انتظامات کئے ہیں لیکن اس کے باوجود گنیش وسرجن اور جلوس کے نگرانوں و ذمہ داروں کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ ’جلی کٹو‘ پر سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی عائد کئے جانے کے بعد جس طرح سے حکومت نے آرڈیننس جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آستھا کا احترام کیا تھا اسی طرح سے حکومت کو آرڈیننس جاری کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔جلوس کے آرگنائزرس‘ محکمہ پولیس کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کے لئے کیا اقدامات کئے جاتے ہیں اس بات کا اندازہ 9 ستمبر کو ہی لگایا جاسکتا ہے کیونکہ فی الحال کوئی بھی عہدیدار یہ کہنے کے موقف میں نہیں ہے کہ حسین ساگر میں گنیش وسرجن کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی گئی ہے ۔م