کانگریس اور تلگو دیشم کے قائدین پر نظر ، اپوزیشن کو شدید نقصان کا امکان
حیدرآباد۔5۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی اقتدار حاصل کرنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل سرکردہ قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کروانے کے بعد اب دوبارہ ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں میں موجود قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے کی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد تلگو دیشم پارٹی اور کانگریس کے سرکردہ قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کروانے کے بعد ٹی آر ایس نے اب ان قائدین کو بھی تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے راغب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں کانگریس اور تلگو دیشم نے گذشتہ 8 برسوں کے دوران بطور قائدفروغ دینے کی کوشش کی تھی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین سے رابطہ اور ان کی بی جے پی میں شمولیت کی اطلاعات کے ساتھ ہی تلنگانہ راشٹر سمیتی نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے کانگریس اور بی جے پی میں موجود ان قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے کے لئے ’’ آپریشن آکرش‘‘ چلانے کا منصوبہ تیار کیا ہے جو ٹی آر ایس سے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کا متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے فوری طور پر ان کوششوں کے آغازسے اس بات کی توثیق ہوتی ہے کہ بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ راشٹر سمیتی ارکان اسمبلی اور قائدین کے بی جے پی سے رابطہ میں رہنے اور پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے معاملہ میں کئے جارہے دعوؤں میں کچھ صداقت ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ اگر تلنگانہ راشٹر سمیتی اپوزیشن جماعتوں میں موجود دوسری صف کے قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اپوزیشن جماعتو ںکو شدید دھکہ لگ سکتا ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے گذشتہ 8برسوں کے دوران کافی محنت اور جدوجہد کے بعد دوسری صف کے قائدین تیار کئے ہیں جو کہ مستقبل قریب میں صف اول کے قائدین کی جگہ لے سکتے ہیں لیکن اگر تلنگانہ راشٹرسمیتی ان قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں اپوزیشن جماعتیں بالخصوص کانگریس اور بی جے پی اپنے ان قائدین سے محروم ہوجائے گی جو پارٹی اور عوام کے درمیان کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے تلنگانہ راشٹرسمیتی میں موجود قائدین کو بی جے پی میں شامل کئے جانے کے بعد تلگو دیشم ‘ کانگریس میں قائدین کا فقدان ہوگیا تھا اور دونوں سیاسی جماعتوں نے کافی جدوجہد کرتے ہوئے ان قائدین کو تیار کیا تھا لیکن اب ٹی آر ایس انہیں بھی اپنی پارٹی میں شامل کروانے میں کامیاب ہوتی ہے اور ٹی آر ایس میں شامل قائدین بی جے پی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو ایسی صورت میں سب سے زیادہ نقصان کانگریس کو ہوگا ۔ م