مخالف تلنگانہ ریمارکس کی مذمت، دستوری ترمیم سے دستبرداری کا مطالبہ
حیدرآباد17اپریل (سیاست نیوز) متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم پر بی جے پی رکن تیجسوی سوریہ کے ریمارکس کے خلاف کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے آج ایوان کے باہر دھرنا منظم کیا اور بی جے پی رکن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ لوک سبھا کی کارروائی سے قبل دونوں ایوانوں کے کانگریس ارکان نے باب الداخلہ پر دھرنا منظم کرکے بی جے پی رکن کے خلاف نعرہ بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تلنگانہ جدوجہد کو ہندوستان کی تقسیم سے جوڑنا افسوسناک ہے۔ بی جے پی رکن نے تلنگانہ کی تشکیل کو یوم سیاہ قرار دیا تھا۔ کرن کمار ریڈی ، کڈیم کاویا ، جی ومشی ، ملو روی ، رگھو رام ریڈی ، انیل کمار یادو اور وی نریندر ریڈی نے دھرنے میں حصہ لے کر بی جے پی رکن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کڈیم کاویا نے کہا کہ اسپیکر کو بی جے پی رکن کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تیجسوی سوریہ کے بیان پر بی جے پی اور مرکز کو اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی نے تلنگانہ تحریک اور شہیدان تلنگانہ کے نام پر ووٹ حاصل کئے لیکن کرناٹک کے رکن کے بیان پر تلنگانہ کے ارکان خاموش رہے۔ کانگریس ارکان نے کہا کہ لوک سبھا حلقہ جات کی تنظیم جدید کے بارے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے جو فارمولہ پیش کیا ہے، بی جے پی رکن نے اس کی مخالفت کی ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند کی تمام سیاسی پارٹیاں دستوری ترمیم کے طریقہ کار کی مخالفت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد علحدہ آندھرا پردیش کا قیام عمل میں آیا جہاں تلگو دیشم کے ساتھ این ڈی اے حکومت ہے۔ احتجاجی ارکان نے کہا کہ وہ لوک سبھا میں بی جے پی رکن کے خلاف تحریک مراعات پیش کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ احتجاجی ارکان نے دستوری ترمیم کو واپس لینے کا مرکز سے مطالبہ کیا۔1/k