پام آئیل کی برآمدات پر انڈونیشیاء کا امتناع

   

ہندوستان میں قلت کا امکان ، طلب کے ساتھ قیمتوں میں اضافہ ہونے کے امکانات
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے خوردنی تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ ہوگیا ہے ۔ مقامی طور پر طلب میں اضافہ ہوجانے کے بعد انڈونیشیا نے پام آئیل کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے ۔ جس پر 28 اپریل سے اطلاق ہوگا ۔ ہندوستان ہر سال اوسطاً 13 ملین ٹن خوردنی تیل درآمد کرتا ہے ۔ جس میں پام آئیل کا حصہ 8.5 ملین ٹن ہے ۔ ہندوستان میں پام آئیل کی ضرورت کا نصف سے زائد تقریبا 40 لاکھ ٹن پام آئیل انڈونیشیاء سے درآمد کیا جاتا ہے ۔ انڈونیشیا کی پابندی کے باعث یہ درآمد مئی سے معطل کردی جائے گی ۔ نتیجہ میں ہندوستان میں پام آئیل کی قلت پیدا ہوجائے گی اور طلب میں زبردست اضافہ ہوگا ۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ پام آئیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا ۔ انڈونیشیا کے پام آئیل کی برآمدات پر امتناع کا اثر نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا پر پڑے گا ۔ دنیا بھر میں ہر سال 240 ملین ٹن خوردنی تیل کا استعمال ہوتا ہے ۔ جس میں پام آئیل کا حصہ 80 ملین ٹن ہے ۔ اس کا 50 فیصد ، 40 ملین ٹن انڈونیشیا سے آتا ہے ۔ اگر انڈو نیشیا سے برآمدات رک جاتی ہیں تو اس پر انحصار کرنے والے تمام ممالک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے ہندوستان میں سن فلور تیل کی درآمد نصف فیصد گھٹ گئی ۔ جس کی وجہ سے پام آئیل کی مانگ میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ پام آئیل کی قیمتیں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ۔ فی الحال 175 تا 225 روپئے فی لیٹر پہونچ گئی ۔ پام آئیل کھانے کی اشیاء کے علاوہ کاسمٹیکس اور بائیو فیول کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔۔ ن