پانی کی سربراہی میں اضافہ کے باوجود ٹینکرس کے لیے بھاری ڈیمانڈ

   

گذشتہ سال فروری میں 58,868 اور جاریہ سال فروری میں 95,763 ٹینکرس سے پانی سربراہ
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ شہر کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت دیکھی جارہی ہے ۔ جس کے سبب پانی کے ٹینکرس کے ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس بورڈ کی جانب سے ایک طرف طلب کے مطابق سربراہی کے لیے پانی دستیاب ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ دوسری طرف ٹینکرس سے پانی سربراہ کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ گذشتہ سال جن علاقوں میں پانی کی مشکلات کا سامنا تھا ۔ ان علاقوں میں جاریہ سال پانی کی سپلائی بڑھا دی گئی ہے ۔ باوجود اس کے ان علاقوں میں ماہ جنوری اور فروری کے دوران ٹینکرس کی مانگ میں 60 فیصد اضافہ ہوگیا ۔ جس کے بعد عہدیدار الرٹ ہوگئے ۔ ان علاقوں میں ٹینکرس پانی کیسے سپلائی کررہے ہیں ۔ ٹینکرس کی بکنگ پر مقررہ وقت پانی سربراہ کیا جارہا ہے یا نہیں اس کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے منیجنگ ڈائرکٹر اشوت ریڈی نے حال ہی میں بورڈ کے جنرل منیجرس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ زیادہ مقدار میں پانی سربراہ کرنے کے باوجود ٹینکرس کی بکنگ زیادہ کیوں ہورہی ہے ؟ استفسار کیا ۔ انہوں نے جنرل منیجرس کو ہدایت دی کہ وہ ٹینکرس کی مانگ کو کم کرنے پر توجہ دیں اور نلوں کے ذریعہ پانی کی مناسب سپلائی کو یقینی بنائے ۔ گذشتہ سال کے بہ نسبت جاریہ سال منی کنڈہ کے ڈیویژن 18 میں ٹینکرس کی ڈیمانڈ میں 161 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اس علاقہ میں گذشتہ سال فروری میں 2857 ٹینکرس سے پانی سربراہ کیا گیا جاریہ سال فروری میں 7513 ٹینکرس کے ذریعہ پانی سربراہ کیا گیا ۔ آصف نگر ڈیویژن میں گذشتہ سال کے بہ نسبت جاریہ سال فروری 144 فیصد ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ۔ نظام پیٹ ڈیویژن میں 102 فیصد اضافہ ہوا ۔ اس طرح درگم چیرو ڈیویژن میں 94 فیصد کا اضافہ ہوا ۔ اس طرح الوال ، نارائن گوڑہ ، کوکٹ پلی ڈیویژنس میں 55 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس بورڈ کے حدود میں 22 ڈیویژنس ہیں جن مںے 17 ڈیویژنس میں گذشتہ سال کے بہ نسبت ٹینکرس کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے ۔ گذشتہ سال فروری کے مقابلے اس بار ٹینکرس میں 63 فیصد میں اضافہ ہوا ہے ۔ قبل ازیں 58,868 ٹینکرس فراہم کئے جاتے تھے لیکن اس بار 95,783 ٹینکرس فراہم کئے گئے ۔۔ 2