اسلام آباد ؍ انقرہ ۔ 28 اپریل (ایجنسیز) سرکاری میڈیا نے منگل کو وزیرِ صحت کے حوالے سے اطلاع دی کہ پاکستان اور ترکیہ شعبہ صحت میں تعاون اور باہمی تربیت کی نشاندہی کرنے کیلئے ماہرینِ صحت کی ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دیں گے۔پاکستان کے شعبہ صحت کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے جن میں محدود اخراجات، نگہداشت تک غیر مساوی رسائی اور درآمدی طبی آلات پر انحصار شامل ہیں جس سے گنجائش اور نتائج کو بہتر بنانے کی کوششوں میں بین الاقوامی شراکت داری ایک کلیدی ضرورت بن جاتی ہے۔ترکیہ کے ساتھ اس اقدام کا مقصد صحت میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط کرنا ہے جس میں نظام کو بہتر بنانا، سرمایہ کاری کو وسعت دینا اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی مہارت کا اشتراک شامل ہیں۔وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات سید مصطفی کمال کی اسلام آباد میں ترکیہ کے سفیر سے ملاقات ہوئی جس کے بعد منگل کو ریڈیو پاکستان نے اطلاع دی، “پاکستان اور ترکیہ کے ماہرینِ صحت پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم ان شعبوں کی نشاندہی کیلئے بنائی جائے گی جہاں دونوں ممالک شعبہ صحت میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ گفتگو میں حکومتی اور نجی اداروں میں شراکت داری کو فروغ دینے اور شعبہ صحت کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط بنانے کیلئے سرمایہ کاری کے مواقع دریافت کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ طبی آلات اور دیگر مصنوعات کی پیداوار، تجارت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون بہتر کیا جائے۔