پرانا پل کو ترقی دینے کا منصوبہ بے سود

   

متوازی پل کی تعمیر کے بعد قدیم پل ترکاری فروشوں تک محدود

حیدرآباد ۔ 14 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد کا پہلا اور قدیم پرانا پل جو 1578 میں جو موسیٰ ندی پر تعمیر کیا گیا ۔ قطب شاہی دور میں موسیٰ ندی پر 600 فٹ لمبا اور 54 فٹ بلند ہے اور اس میں 22 محرابیں ہیں ۔ پرانا پل حیدرآباد کا واحد پل ہے جو 1908 کے سیلاب میں تباہی سے بچ گیا تھا ۔ جسے ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا اور چند دہائیوں قبل ایک متوازی پل تعمیر کیا گیا تھا تب حکومتی انجینئرز اور ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ پرانا پل بریج گاڑیوں کی نقل و حرکت کے لیے محفوظ نہیں ہیں ۔ اس کی تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوئے حکام نے اسے ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ متحدہ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے 2002 میں اس پل کی نشوونما کی گئی تھی ۔ لیکن وہ جوں کا توں برقرار رکھا گیا اور اب یہاں سبزی اور پھل فروش اپنا کاروبار کررہے ہیں ۔ اس تاریخی پل کی تعمیر کے کئی افسانے موجود ہیں ۔ پرانا پل کو ابراہیم قلی قطب شاہ نے 1580-1518 میں بنایا تھا ۔ ابراہیم قلی قطب شاہ کے بیٹے محمد قلی قطب شاہ اس پل کو 1612-1565 کے درمیان بھاگمتی سے ملنے کے لیے موسیٰ ندی کو پار کرنے کے بعد تعمیر کرنے کا بھی دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ مختلف ایجنسیوں اور اداروں کے ماہرین نے مختلف مواقع پر پل کا معائنہ کیا اور اس کی تزئین و آرائش کے لیے منصوبے بنائے لیکن جھاڑیوں کی صفائی کے علاوہ کچھ نہیں کیا گیا ۔ تجاوزات کو ختم کرتے ہوئے سڑک کو دوبارہ مرمت کرنے اور ساتھ ہی واکنگ ٹریک اور بیٹھنے کے لیے انتظامات کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ اس کے باوجود کوئی کارروائی انجام نہیں دی گئی ۔ تمام تجاویزات اور منصوبے صرف کاغذات تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ۔ پرانا پل پر سبزی اور پھل فروش اپنے کاروبار میں مصروف ہوگئے ہیں ۔ پرانا پل اب بھی اپنی افزائش کے انتظار میں ہے ۔ قدیم اور تاریخی پرانا پل آج بھی اپنی بحالی کا منتظر ہے ۔ 1578 میں تعمیر ہونے والا پل جو 1908 کے سیلاب کی تباہی میں محفوظ تھا ۔۔ ش