پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ، جائیداد مالکین میں 20 کروڑ تقسیم

   

پراجکٹ کی 4 سال میں تکمیل، جملہ 1100 عمارتوں کیلئے 1000 کروڑ معاوضہ مختص
حیدرآباد۔/7 جنوری، ( سیاست نیوز) پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کے کاموں میں اس وقت پیشرفت ہوئی جب حکومت کی جانب سے 41 جائیداد مالکین میں معاوضہ کے طور پر 20 کروڑ روپئے جاری کئے۔ مہاتما گاندھی بس اسٹیشن سے چندرائن گٹہ میٹرو راہداری 7.5 کلو میٹر پر محیط ہے۔ حکومت نے پراجکٹ کیلئے جائیدادوں کے حصول کی مساعی شروع کردی ہے اور جائیداد مالکین سے مشاورت کے بعد فی گز 81000 روپئے معاوضہ طئے کیا گیا۔ پہلے مرحلہ میں 34 جائیدادوں کے 41 مالکین میں20 کروڑ روپئے کے چیکس کی تقسیم عمل میں آئی۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے منیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی، کلکٹر حیدرآباد انودیپ درشٹی اور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد اویسی نے حیدرآباد کلکٹریٹ میں منعقدہ تقریب میں چیکس حوالے کئے۔ این وی ایس ریڈی نے کہا کہ سڑک کی توسیع اور میٹرو پراجکٹ کیلئے جن افراد کی جائیدادیں حاصل کی جارہی ہیں انہیں چیف منسٹر کی ہدایت پر مناسب معاوضہ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو پراجکٹ کے دوسرے مرحلہ کی تکمیل سے پرانے شہر میں بہتر انفرااسٹرکچر سہولتیں حاصل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسکائی واک اور فٹ پاتھس کو ترقی دی جائے گی۔ چارمینار، لاڑ بازار اور سالار جنگ میوزیم کو اہم سیاحتی مراکز کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے پرانے شہر کی ترقی پر توجہ دینے کی ہدایت دی ہے اور میٹرو ٹرین سے پرانے شہر کی عوام کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 2741 کروڑ سے 7.5 کلو میٹر میٹرو پراجکٹ اندرون چار سال مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ نامپلی میں اڈوانسڈ ملٹی لیول پارکنگ پراجکٹ کا آغاز ہوگا۔ کلکٹر حیدرآباد نے کہا کہ متاثرہ جائیدادوں کے مالکین معاوضہ سے مطمئن ہیں اور 1100 متاثر ہونے والی جائیدادوں کیلئے 1000 کروڑ مختص کئے گئے۔1