حیدرآباد۔19۔مارچ(سیاست نیوز) پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموںمیں ریکارڈ کی جانے والی پیشرفت کو عہدیداروں نے اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس راہداری پر مجموعی اعتبار سے جاری کام تیزی سے جاری ہیں اور جلد ہی اس راہداری پر میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کا آغاز کردیا جائے گا۔ دارالشفاء تا چندرائن گٹہ راہداری پرجائیدادوں کے حصول اور انہدامی کاروائیوں کے سلسلہ میں عہدیداروں نے بتایا کہ اس راہداری پر 200 کروڑ روپئے کی ادائیگی کرتے ہوئے حیدرآباد میٹرو ریل نے مجموعی طور پر جائیدادوں کے حصول کا معاوضہ ادا کیا ہے۔ مذکورہ راہداری پر 200 کروڑ کی مالیت کے 500 مالکین جائیدادکو چیکس جاری کئے جاچکے ہیں۔دارالشفاء تا فلک نما تعمیر کی جانے والی میٹرو ریل کی اس راہداری کے کاموں کو اندرون 4 سال مکمل کرنے کا نشانہ رکھا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت تلنگانہ کے منصوبہ اور نشانہ کے مطابق حیدرآباد میٹرو ریل نے جملہ 980 جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان جائیدادوں کے حصول کے عمل کا آغاز کرچکی ہے۔ اس راہداری پر 400 سے زائد جائیدادوں کو ابتدائی نوٹسیں جاری کی جاچکی ہیں جو کہ دارالشفاء تا سلطان شاہی کی جانے والی انہدامی کاروائیوں کے علاوہ ہیں۔ 7.5 کیلو میٹر والی مسافت کی اس راہداری پر جاری انہدامی کاروائیوں کے ساتھ حیدرآباد میٹرو ریل نے دیگر امور پر بھی کام کا آغاز کردیا ہے تاکہ انہدامی کاروائیوں کے ساتھ ترقیاتی کاموں کا بھی آغاز کیا جاسکے۔حیدرآباد میٹرو ریل نے اس راہداری پر جن 1100 جائیدادوں کی سڑکوں کی توسیع کے لئے نشاندہی کی ہے ان میں 980 ایسی جائیدادیں ہیں جو مکمل طور پر حاصل کی جار ہی ہیں اور ان کے لئے 1000 کروڑ کا معاوضہ ادا کیا جا رہاہے ۔980 جائیدادوں میں 400 جائیدادوں کے مالکین کو ابتدائی نوٹس جاری کی گئی ہے۔3
جبکہ 325 مالکین جائیداد سے منظوری حاصل ہوچکی ہے اور ان میں 216 مالکین جائیداد کو مکمل معاوضہ کی ادائیگی بھی عمل میں لائی جاچکی ہے۔حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں کے مطابق اس راہداری پر جملہ 80جائیدادوں کو مکمل طور پر منہدم کیا جاچکا ہے جبکہ 41 جائیدادوں کی انہدامی کاروائی مختلف مراحل میں ہے۔اس کے علاوہ 215 افراد کی بازآبادکاری کے لئے انہیں معاوضہ جاری کیا جاچکا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ پرانے شہر کی اس راہداری کے لئے حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں نے جو تخمینہ لگا یا ہے اس کے مطابق 2714 کروڑ روپئے کے مصارف آئیں گے اور پرانے شہر کے اس پراجکٹ کو اندرون 4 سال مکمل کرلیا جائے گا۔3