حیدرآباد ۔ 10 ۔ ستمبر : ( راست ) : پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے غریب لوگوں کے مکانات کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے آج صبح حیدرآباد کے ضلع کلکٹر کے دفتر لکڑی کا پل میں کلکٹر آفس پر دھرنا منعقد کیا گیا۔ حیدرآباد ساؤتھ ضلع سکریٹری ایم ڈی عباس نے دھرنا پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور خطاب کیا۔ سی پی ایم حیدرآباد ضلع سکریٹری عباس نے کہا کہ تلنگانہ کی امیر ترین ریاست میں پرانے شہر کے لوگوں کے مسائل کی پرواہ کرنے والا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ بالخصوص ریاست تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد شہر میں بالخصوص پرانے شہر میں لاکھوں غریب لوگ مکانات یا کرائے کے مکانوں میں رہ رہے ہیں اور ہزاروں روپئے کے بڑھتے ہوئے کرایوں کو ادا کرنے سے قاصر ہیں، حیدرآباد میں ٹی آر ایس اقتدار میں غریبوں اور مکانات کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔کانگریس کو چاہے کہ حیدرآباد کے پرانے شہر کے عوام کوخاص طور پر غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے اور چھوٹے کاروبار کرنے والے ، اپنی روزمرہ کی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں مکانات الاٹ کریں۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکولوں کی عدم توجہی کے باعث بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کرانا پڑتا ہے۔ لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہ اسکول کی فیس، ہاؤس رینٹ ادا کرنے سے قاصر ہیں لیکن حکومت چاہے کوئی بھی ہو ان کے مسائل پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ حکومت ان غریبوں کو نظر انداز کرنا بند کرے جن کے پاس گھر نہیں ہیں اور تمام مستحق غریبوں کو ڈبل بیڈ روم والے مکانات الاٹمنٹ دے۔ حکومت پلاٹوں کی نشاندہی کرے اور گھر بنائیں اور انہیں مفت دے۔اس پروگرام میں ڈسٹرکٹ کمیٹی ممبر جناب عبدالستار نے بھی مخاطب کیا اور کہا کہ یہ تمام شہر کے مستحق افراد یہاں پر کلکٹر ،آر ڈی او، ایم ار او سے گزشتہ دنوں میں ملاقات کرتے ہوئے اپنی تکالیف بیان کیے تھے اور کئی مرتبہ اسی کلکٹر آفس پہ درخواست دیے تھے اس کے باوجود مستحق افراد کو نظر انداز کر کے اندرااماں الو سکیم کے تحت لاکھوں روپیہ بٹورنے کی کانگرس حکومت جو کوشش کر رہی ہے یہ مستحق افراد کے مفاد میں نہیں ہے اسی لیے تیار کردہ ڈبل بیڈ روم غریبوں کو فورا الگ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور دیگر قائدین نے بھی فورا تمام مستحق افراد کو ڈبل بیڈ روم الاٹ کرنے کا مطالبہ کانگریس حکومت سے کیا۔ اس پروگرام میں بابر خان ،افضل بیگم، کوٹیا ،مینا، وٹھل، بالو، عبداللطیف، نزہت بیگم فرزانہ بیگم، مہہ جبین ، ذکیہ بیگم ، غوثیہ بیگم، انور خان، اختر بیگم ، کیشن نائک ،کرشنا، سراون کمار، شش کلا، ناگیشور، درخواست گزار موجود تھے۔