ممبئی۔ 16 مئی (یو این آئی) پرکاش مہرہ ہندستانی سنیما کے ایک انتہائی اہم فلم ساز، ہدایتکار اور پروڈیوسر تھے ، جنہوں نے خاص طور پر 1970 اور 1980 کی دہائی میں بالی ووڈ کو نئی سمت دی۔ ان کا نام خاص طور پر ’اینگری ینگ مین‘ امیج کے فروغ سے جڑا ہوا ہے ، جسے امیتابھ بچن نے مقبول بنایا۔ بالی وڈ کے مشہور ہدایت کار پرکاش مہرہ نے 1973 میں ریلیز اپنی سوپر ہٹ فلم ’زنجیر‘ میں امیتابھ بچن کو ایک روپیہ سائننگ اماؤنٹ دیا تھا ۔ اس فلم سے امیتابھ بچن اینگری ینگ مین اور سپر اسٹار بن کر ابھرے ۔ اترپردیش کے بجنور میں 13 جولائی 1939 کو پیدا ہوئے پرکاش مہرہ اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں اداکار بننا چاہتے تھے ۔ ساٹھ کی دہائی میں اپنے اسی خواب کو پورا کرنے کے لئے وہ ممبئی آ گئے ۔انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز فلم اجالا اور پروفیسر جیسی فلموں سے کیا۔ سال 1968 میں آئی فلم حسینہ مان جائے گی بطور ہدایتکار پرکاش مہرہ کی پہلی فلم تھی۔اس فلم میں ششی کپور نے دوہرا کردار ادا کیا تھا۔1973 میں فلم زنجیر نہ صرف پرکاش مہرہ کے لئے بلکہ امیتابھ بچن کے کیریئر کے لئے بھی سنگ میل ثابت ہوئی۔ بتایا جاتا ہے دھرمیندر اور پران کے کہنے پرپرکاش مہرہ نے امیتابھ کوزنجیر میں کام کرنے کا موقع دیا تھا اور اس کے لئے سائننگ اماؤنٹ ایک روپیہ دیا تھا۔ زنجیر کی کامیابی کے بعد امیتابھ اورپرکاش مہرہ کی سپر ہٹ فلموں کادور طویل وقت تک چلا۔ اس دوران لاوارث ، مقدر کا سکندر، نمک حلال، شرابی، ہیرا پھیری جیسی کئی فلموں نے باکس آفس پر کامیابی کے پرچم لہرائے ۔