اس انتشار کا کوئی اثر بھی ہے کہ نہیں
تجھے زوال کی اپنے خبر بھی ہے کہ نہیں
پنجاب میں آئندہ سال کے اوائل میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ اس سے قبل ریاست میں سیاسی انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ خاص طور پر برسر اقتدار عام آدمی پارٹی ایک طرح سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی ہے ۔ بی جے پی ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کا پنجاب میں صفایا کرنے کی مہم کا عملا آغاز کرچکی ہے ۔ اس کی شروعات اس وقت ہوئی تھی جب رکن راجیہ سبھا راگھو چڈھا کی قیادت میں پارٹی کے کچھ ارکان پارلیمنٹ بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے ۔ اسی وقت یہ کہا جا رہا تھا کہ پنجاب کی حکومت کو زوال کا شکار کردیا جائے گا تاہم اس وقت بی جے پی نے ایسا کچھ نہیں کیا کیونکہ انتخابات کیلئے وقت بہت کم رہ گیا تھا ۔ اب جبکہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے ریاست میں اپنے 40 امیدواروں کی فہرست جاری کی گئی تھی اس کے دوسرے ہی دن پارٹی کے دو ارکان اسمبلی نے استعفی پیش کردیا تھا ۔ آج ایک اور رکن اسمبلی نے پارٹی اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفی پیش کردیا ہے اور یہ تینوں ایک ساتھ بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ ان تینوں ارکان کا الزام ہے کہ چیف منسٹر بھگونت مان نے پنجاب جیسی ریاست کو تباہ کردیا ہے اور اس تعلق سے کئی مسائل کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ان میں منشیات کی لعنت ‘ لا اینڈ آرڈر کے مسائل ‘ کسانوں کی ابتر حالت اور نوجوانوں کے مسائل کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں عام آدمی پارٹی کیلئے سیاسی انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ پارٹی کی جانب سے ریاست میں استحکام پیدا کرنے کے دعوے کئے جا رہے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھی عام آدمی پارٹی کو اقتدار حاصل ہوگا ۔ بی جے پی ریاست میں اپنا خود کا کوئی سیاسی وجود نہیں رکھتی اور وہ ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے عام آدمی پارٹی کی صفوں میں ہی انحراف کرواتے ہوئے اپنی صفوں کو مستحکم کرنا اور ریاست میں اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ وہ اپنے بل پر ریاست کے عوام کی تائید حاصل کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔
راگھو چڈھا کی قیادت میں پارٹی کے سات ارکان پارلیمنٹ کو بی جے پی میں شامل کیا گیا تھا ۔ اس طرح بی جے پی نے ریاست میں اپنی صفیں مستحکم کرنے کیلئے کوشش شروع کی تھی کیونکہ ریاست میں شرومنی اکالی دل کے ساتھ اس کا اتحاد ختم ہوچکا ہے اور بی جے پی اس بار پنجاب میں تنہا مقابلہ کرتے ہوئے قسمت آزمائی کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔ ایسے میں پارٹی کی جانب سے مخالف جماعتوں میں انحراف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کو یہ احساس ہے کہ عام آدمی پارٹی کو ریاست کے عوام کی تائید حاصل ہے اسی لئے وہ اسی کے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو اپنی صفوں میں شامل کر رہی ہے جبکہ کانگریس میں تاحال ایسی کسی طرح کی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ بی جے پی کو بھی یہ احساس ہے کہ وہ پنجاب میں اپنی علیحدہ سے کوئی شناخت نہیں بنا پائی ہے اور ریاست کے عوام اس پر اور اس کے قائدین پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ شرومنی اکالی دل بھی اس کے ساتھ نہیں ہے جس کی وجہ سے پنجاب کی مقامی قیادت پارٹی میں موجود نہیں تھی ۔ اسی وجہ سے عام آدمی پارٹی کے عوامی اور مقامی چہروں کو شامل کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ کچھ گوشوں کا تاثر تو یہ بھی ہے کہ خود عام آدمی پارٹی دہلی کی طرح پنجاب میں بھی بی جے پی کیلئے راہ ہموار کر رہی ہے اور اس کے قائدین بی جے پی کیلئے راستہ بنانے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں اور اس کا سلسلہ اب مزید شدت اختیار کرسکتا ہے ۔
بی جے پی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ریاست میں عام آدمی پارٹی کا انتشار بی جے پی کیلئے استحکام کا باعث بنے ۔ اسی حکمت عملی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کچھ مقامی چہروں کو شامل کرنے کے باوجود پنجاب کے عوام کی تائیدو حمایت تاحال حاصل نہیں کرسکی ہے ۔ خاص طور پر اسمبلی انتخابات میں نتائج کبھی بھی بی جے پی کیلئے اس کی توقع کے مطابق نہیں رہے ۔ اب جو کیفیت پیدا ہو رہی ہے بی جے پی اس سے امیدیں لگائے ہوئے ہیں تاہم یہ امیدیں پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔