ماسکو : روس کی سرپرستی میں شام اور ترکی میں حکومت کے درمیان مفاہمت کی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔ روسی وزارت دفاع کی جانب سے شام کے بحران کو حل کرنے کے طریقوں پر بات چیت کے لیے ماسکو میں سہ فریقی مذاکرات کے انعقاد کے اعلان کے چند ہفتوں بعد دمشق میں استحکام کے حصول کیلئے بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس حوالے سے جلد ملاقات کا اعلان کیا گیا تھا۔ اب روس نے اس حوالے سے مزید پیشرفت سے آگاہ کیا ہے۔روسی ایوان صدر نے آج اعلان کیا کہ روسی صدر پوٹن نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردغان سے فون پر بات کی ہے جس میں انہوں نے شام میں حکومت کے ساتھ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ کریملن نے کہا کہ دونوں نے دمشق میں ترک حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر بات کی۔ تاہم بیان میں اس موضوع پر مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ ترک اخبار حریت کے مطابق یہ پیشرفت سفارتی ذرائع کے اس اعلان کے چند روز بعد ہوئی ہیکہ روس، ترکی اور شام کا وزرائے خارجہ کی سطح پر اجلاس جلد ماسکو میں منعقد ہو سکتا ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ماسکو میں ہونے والی بات چیت کی تاریخ ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اوغلو کے دورہ افریقی کے بعد ہوگی۔ یہ دورہ 14 جنوری کو ختم ہوا تھا۔مزید یہ بھی کہا گیا تھا کہ ماسکو میں ہونے والی آئندہ بات چیت میں حساس مسائل پر بات کی جائے گی کیونکہ وزرائے خارجہ شام کی تازہ ترین پیشرفت، اس کے شمال کی صورتحال، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ کے علاوہ پناہ گزینوں کی واپسی پر بات چیت کریں گے۔ یاد رہیکہ روس کی وزارت دفاع نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو، ترک وزیر دفاع ہولوسی آکار اور شام کے علی محمود عباس نے شام کے بحران کے حل کے طریقوں پر بات چیت کیلئے ماسکو میں سہ فریقی مذاکرات کئے ہیں۔
یہ مذاکرات دمشق میں استحکام کے لیے بات چیت جاری رکھنے کے لیے کی گئے تھے۔ اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس، شام اور ترکی کے وزرائے دفاع کے درمیان 28 دسمبر کو ماسکو میں سہ فریقی مذاکرات ہوئے، جس کے دوران انہوں نے شام کے بحران اور پناہ گزینوں کے مسئلے کو حل کرنے کے طریقوں اور شام میں شدت پسند گروپوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ .