پولاورم پراجکٹ کی تعمیر پر چیف منسٹر کا سنسنی خیز فیصلہ

   

آئی آئی ٹی حیدرآباد ٹیم کے ساتھ جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 4 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے پولاورم پراجکٹ کی تعمیر سے تلنگانہ پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعلق ایک رپورٹ آئی آئی ٹی حیدرآباد ٹیم کے ساتھ ملکر ایک ماہ میں جامع رپورٹ تیار کرنے کے احکامات جاری کئے۔ آئی آئی ٹی حیدرآباد ٹیم کے ساتھ تال میل کرنے کیلئے اسپیشل آفیسر کا تقرر کرنے پر زور دیا۔ آج محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ چیف منسٹر نے جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں ریاستی وزیرآبپاشی اتم کمار ریڈی، مشیر محکمہ آبپاشی آدتیہ ناتھ داس کے علاوہ دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے پولاورم پراجکٹ کی تعمیر سے بھدراچلم مندر کو لاحق خطرہ کے بارے میں ایک جامع مطالعہ کرنے کا حکم دیا۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ سال 2022ء میں 27 لاکھ کیوزکس سیلابی پانی چھوڑا گیا جس سے بھدراچلم کا علاقہ پوری طرح پانی سے لبریز ہوگیا۔ آندھراپردیش حکومت کی جانب سے گوداوری ندی پر نئے شروع کئے گئے پراجکٹ کے بارے میں چیف منسٹر کو تفصیلات سے واقف کرایا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ حال ہی میں آندھراپردیش حکومت نے اس پراجکٹ پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیا ہے۔ سیلابی پانی کی بنیاد پر تعمیر کئے جانے والے اس پراجکٹ کو تعمیری منظوری نہیں ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اس پراجکٹ کے تعلق سے تلنگانہ حکومت کے اعتراضات کو آندھراپردیش کے چیف سکریٹری تک پہنچا دینے کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست کے مفادات کیلئے ضروری ہو تو گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ کے ساتھ ساتھ مرکزی وزارت آئی بی و توانائی کو بھی مکتوبات روانہ کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی۔2