پولیس اور احتجاجی طلباء میںتصادم، واٹر کینن کا استعمال اور لاٹھی چارج ،کئی طلباء کو حراست میں لیا گیا‘ احتجاجی طلباء اپنے مطالبات پر اٹل
پٹنہ25؍اگست ( ایجنسیز ) بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں طلباء تنظیموں کی جانب سے چیف منسٹر کی رہائش گاہ کا گھیراو‘ کرنے کے درمیان زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ بڑی تعداد میں طلبا چیف منسٹر سمراٹ چودھری کی رہائش کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن انھیں پولیس نے ایسا کرنے سے روک دیا۔ پولیس اور مظاہرین کے مابین تصادم اور جھڑپیں ہوئیں جس کی وجہ سے افراتفری والا ماحول بھی پیدا ہوگیا۔ پولیس نے ہجوم کو منشتر کرنے کیلئے لاٹھی چارج بھی جس میں کئی طلباء زخمی بھی ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں طلباء کو حراست میں لیا گیا۔ چیف منسٹر سمراٹ چودھری کی رہائش گاہ کے گھیراؤ کی کوشش میں سینکڑوں مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹوں یعنی بریکیڈس کو توڑدیا اور آگے بڑھتے رہے۔ احتجاجی طلباء کو روکنے کیلئے پولیس نے واٹر کینن کا بھی بھر پور استعمال کیا لیکن وہ کارگر ثابت نہیں ہوا ۔ بے قابو ہجوم پر قابو پانے میں پولیس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ احتجاجی طلباء 70ویں ’بی پی ایس سی‘ امتحان کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور آج گاندھی میدان سے راج بھون تک مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ راج بھون کی جانب بڑھتے ہوئے طلباء نے پولیس کے ذریعہ لگائے گئے بیریکیڈس توڑ دیے، اس کے بعد طلباء اور پولیس کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔ واضح رہے کہ طلبا اپنے قدم روکنے کو راضی نہیں تھے جس کو دیکھتے ہوئے پولیس نے انھیں پہلے سخت انتباہ دیا اور پھر تصادم والے حالات پیدا ہوگئے۔ طلباء اپنے متعدد مطالبات کے ساتھ چیف منسٹر کی رہائش کے گھیراؤ کے لیے آگے بڑھ رہے تھے۔ اس پورے معاملے پر ڈی ایس پی کا مکھیا نارائن سنگھ نے کہا کہ طلبا سے بات چیت مثبت رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ طلباء مان جائیں گے۔ انہوں نے سینئر افسران کے سامنے کئی معاملے اٹھائے ہیں ۔ احتجاج کے دوران طلباء نے کئی مطالبات سامنے رکھے ہیں جن میں 70 ویں ’بی پی ایس سی‘ امتحان کی منسوخی کا مطالبہ خاص طور سے شامل ہے۔ اس کے علاوہ ٹی آر ای-4 اساتذہ کی تقرری کے لیے صرف ایک امتحان لیے جانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ پی ٹی-مینس نہ ہو اور نئے تجربے ٹی آر ای-5 سے کیے جائیں۔ منفی مارکنگ کا کوئی بندوبست بھی طلبا نہیں چاہتے۔ یہ مطالبہ بھی طلبا زور و شور سے رکھ رہے ہیں کہ بی پی ایس سی داروغہ سمیت سبھی امتحانات میں شفافیت ہو ، ڈومیسائل پالیسی اور عمر کی حد میں اضافے ہو اور سرکاری تقرریوں میں عمر کی حد بندی میں رعایت دی جائے۔