نئی دہلی/احمد آباد: پہلے کریک ہیروز ایوارڈز جو ہفتہ 29 جنوری 2022 کو ایک ورچوئل تقریب میں تقسیم کیے گئے ، اُن انعامات نے ہندوستان بھر میں موجود نچلی سطح پر کرکٹ ٹیلنٹ کی گہرائی کو دریافت کیا ہے ۔ ملک بھر کے 17 شہروں اور قصبوں کے کرکٹرز،ا سکوررز، منتظمین اور ٹیموں نے کھیل کے پھیلاؤ اور مقبولیت کو اجاگر کرنزے والی 20 کیٹیگریز میں ایوارڈز حاصل کیے ۔ کریک ہیروز ایک اہم بین الاقوامی کرکٹ کارکردگی کا تجزیہ کرنزے والا پلیٹ فارم ہے ،جس میں کرکٹ کی دنیا بھر میں باضابطہ شراکت داروں کے طورپر کئی گھریلو اور بین الاقوامی اسوسی ایشن اور کرکٹ بورڈس ک طورپر شامل ہیں۔ کریک ہیروز میں 1.1 کروڑ سے زیادہ کرکیٹروں کا رجسٹریشن ہے جنہوں نے کل ملا کر 20 لاکھ سے زیادہ میچ کھیلے ہین۔200 سے زیادہ کرکٹ اسوسی ایشن کرک ہیروز کو اپنے باضابطہ اسکورنزگ پلیٹ فارم کے طورپر استعمال کررہے ہیں۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اشتراک کرتے ہوئے کرک ہیروز کے بانی ابھیشیک دیس نے کہا،‘‘ ہم پہلے کرک ہیروز ایوارڈس کے سبھی فاتحین کو مبارکباد دیتے ہیں۔ وہ سبھی حقیقت میں اس تصدیق کا حصہ تھے ۔ہم انہیں 2022 میں اس طرح کے اور زیادہ ایوارڈس اور کارکردگی کی امید کرتے ہیں۔کرک ہیروز ایوارڈ اگلے سال اور بھی بڑا اور بہتر ہوگا۔ چنئی کے بالاجی کنن اور بینگلورو کی اوما کاشوی نے بالترتیب سال کا سب سے مقبول کرک ہیرو (مرد) اور کرک ہیرو آف دی ایئر(خاتون) خطاب جیتا۔بالاجی اور اوما دونوں نے کیلنڈر سال 2021 میں لیدر بال کرکٹ میں سب سے زیادہ بہترین کھلاڑی (ایم وی پی) ایوارڈ جیتے تھے ۔ بالاجی نے کرک ہیرو فیلڈر آف ایئر کا ایوارڈ بھی جیتا،جس میں ان کے نام پر 368 میچوں میں 161 کیچ اور 27 رنز آؤٹ کے ساتھ کل 188 شکار ہیں۔ دن کے دوسرے ستارے بلا شبہ گڑگاؤں کے دیپانشو ککڑ تھے ،جنہوں نے لیدر بال کرکٹ میں کرک ہیروز بیٹر اور وکٹ کیپر آف دی ایئر سمیت تین ایوارڈس اپنے نام کئے۔ انہوں نے اسٹمپس کے پیچھے 189 شکار دبوچے اور 50 سے اوپر کی اوسط سے دس ہزار سے زیادہ رنز بنائے۔