پی ایم گتی شکتی کی جانب سے ایودھیا بائی پاس پراجکٹ کی حوصلہ افزائی

   

بائی پاس پراجکٹ یوپی کے لکھنؤ، بستی اور گونڈہ جیسے اہم شہروںکا احاطہ کرے گا

نئی دہلی: گزشتہ دو برسوں میں نیٹ ورک پلاننگ گروپ (این پی جی) کی 64 میٹنگیں پی ایم گتی شکتی کے تحت منعقد کی گئی ہیں۔ ان میٹنگوں میں 131 سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی جامع علاقے پر مبنی سماجی و اقتصادی ترقی کا جائزہ لیا گیا۔ 52 ویں این پی جی میٹنگ کے دوران ایودھیا بائی پاس پراجکٹ کا ایک اہم بنیادی ڈھانچے کے پراجکٹ کے طور پر جائزہ لیا گیا۔ایودھیا بائی پاس پراجکٹ ایک 67.57 کلومیٹر کا گرین فیلڈ پراجکٹ ہے جو لکھنو، بستی اور گونڈہ جیسے اہم اضلاع کا احاطہ کرے گا۔ (4/6 لین ناردرن ایودھیا بائی پاس کی تعمیر کی کل لمبائی 35.40 کلومیٹر ہے جس میں 4/6 لین سدرن ایودھیا بائی پاس کی تعمیر شامل ہے ، کل لمبائی 32.172 کلومیٹر ہے ۔) یہ پراجکٹ ان تینوں اضلاع میں سیاحتی اور تیرتھ یاترا کے مقامات سمیت اقتصادی، سماجی اور لاجسٹکس جنکشنوں کے رابطے میں بہتری کی سہولت فراہم کرے گا۔ایودھیا دو اقتصادی مراکز (لکھنؤ اور گورکھپور) کے درمیان واقع ہے اور بڑی چمڑے ، انجینئرنگ کے سامان، تعمیراتی سامان، لوہا اور اسٹیل وغیرہ شہر سے گزرتے ہیں لہٰذا اس بائی پاس روٹ کی تعمیر سے مال برداری کی بلا خلل نقل و حمل میں سہولت ہو گی اور شہر کی بھیڑ کم ہو گی۔اس بائی پاس سے ایودھیا کے آس پاس کے آٹھ زیر اثر علاقوں کے آس پاس مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کی نقل و حمل 2023 میں 89,023 اور 2033 میں 216,928) میں حسبِ پیشنگوئی اضافہ کی توقع ہے ۔ اس سے اہم قومی شاہراہوں پر سفر کے وقت میں کمی آئے گی۔ جیسے قومی شاہراہ 27: لکھنؤ۔ ایودھیا ۔گورکھپور، قومی شاہراہ-330 اے : رائے بریلی-ایودھیا؛ قومی شاہراہ-330: سلطان پور-ایودھیا-گونڈہ اور قومی شاہراہ -135اے : اکبر پور-ایودھیا)۔ این پی جی میٹنگوں میں جانچے گئے دیگر مجوزہ پراجکٹوں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور ہم آہنگی لانے کیلئے اس پراجکٹ کا تصور کیا گیا تھا۔ ان میں (i) پریاگ راج ، رائے بریلی پراجکٹ (ریاست اتر پردیش میں پریاگ راج سٹی بائی پاس کی تعمیر (کل لمبائی- 64.763 کلومیٹر؛ (ii) گورکھپور-سلی گوڑی کوریڈور- گورکھپور (اتر پردیش) سے سلی گوڑی (مغربی بنگال) تک پراجکٹ کی ترقی؛(iii) گورکھپور-بریلی کوریڈور- گورکھپور سے رام پور تک پراجکٹ کا ڈولپمنٹ کیا جانا ہے ۔ ایودھیا کے علاقائی بنیادی ڈھانچے کی اہمیت اس کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت سے کہیں زیادہ ہے جو ارد گرد کے علاقوں کی مجموعی ترقی اور رابطے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ ایودھیا (مہارشی والمیکی بین الاقوامی ہوائی اڈے ) میں حالیہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے افتتاح نے ایک اہم سنگ میل ہے جو یاتریوں کیلئے ایک آسان ہوائی سفر کا اختیار فراہم کرتا ہے ۔ یہ نہ صرف سیاحت کو فروغ دیتا ہے بلکہ ایودھیا کو قومی اور بین الاقوامی نقل و حمل کے گرِڈ سے جوڑتا ہے نیز اقتصادی اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دیتا ہے ۔
ایودھیا میں ریلوے اسٹیشن (ایودھیا دھام جنکشن ریلوے اسٹیشن) کو جدید معیارات پر پورا اترنے کیلئے دوبارہ تیار کیا گیا ہے جس سے ملک بھر کے بڑے شہروں کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے رابطے کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ جدید ترین اسٹیشن 10 ہزار مسافروں کی موجودہ گنجائش کے مقابلے میں 60 ہزار مسافروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرے گا۔ بہتر ریل کا بنیادی ڈھانچہ نہ صرف لوگوں کی نقل و حمل میں سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ سامان کی موثر ترسیل میں بھی مدد کرتا ہے ۔ اس سے علاقائی اقتصادی ترقی میں مدد ملتی ہے ۔